عراق: بش کی براہ راست مداخلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے عراق کے ایک شیعہ رہنما سے ذاتی طور پر رابطہ کرکے انہیں عراق کے مجوزہ آئین کے بارے میں لچک دار رویہ اپنانے کو کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ صدر بش نے بدھ کو عراق کے شیعہ رہنما عبدالعزیر الحکیم سے فون پر بات کی۔ وائٹ ہاؤس نے صدر بش اور شیعہ رہنما کے درمیان بات چیت کی تفصیل نہیں بتائی ہیں۔ تاہم عراق کے شیعہ رہنماؤں کے مطابق صدر بش نے عبدالحکیم سے عراق کے نئے آئین میں وفاق اور بعث پارٹی کے اہلکاروں کے مسئلہ پر نرم رویہ اپنانے کو کہا ہے۔ سنی مذاکرات کاروں نے شیعہ اور کرد نمائندوں کی طرف سے تجویز کردہ وفاقی طرز کے آئین کو مسترد کر دیا ہے۔ عراقی آئین پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے جمعہ کی رات تک مزید مہلت دی گئی تھی۔ بغداد کے شمال میں واقع بقوبہ شہر میں سابق صدر صدام حسین کے حامی ہزاروں افراد عراق کے نئے آئین کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کرکک کے شمالی شہر میں بھی وفاقی طرز کے آئین کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||