عراق: دو بم حملوں میں چودہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو مختلف کار بم حملوں میں چودہ افراد ہلاک اور کئی لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔اس کے علاوہ مقتدی الصدر کی حامی ملیشیا اور امریکی افواج کے درمیان بغداد میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بغداد میں ایلیٹ پولیس پر حملہ میں پانچ پولیس کمانڈوز سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراقی پولیس کے مطابق یہ حملہ روڈ پر رکھے ہوئے بم سے کیا گیا ہے اور حملہ آوروں کا نشانہ ایلیٹ پولیس فورس کے اہلکار تھے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک خودکش حملہ آور نے بغداد کے جنوب میں واقع حلہ نامی قصبے کے ایک پر ہجوم بازار میں اپنے آپ کو اڑا لیا۔ خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق خود کش حملہ آور ایک سائیکل پر سوار ہو کر آیا اور اپنے آپ کو پر ہجوم بازار میں خود کو آڑا لیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ عراقی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ مشرقی بغداد میں امریکی افواج اور مقتدیٰ الصدر کے حامی شدت پسندوں کےد رمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چارافراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مہدی ملیشیا اور امریکی افواج کے درمیان یہ لڑائی مقتدی الصدر کے حامیوں اور اتحادی افواج کے ایک سال قبل ہونے والی پر تشدد جھڑپوں کے بعد پہلا ٹکراؤ ہے۔ عراقی پولیس کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی فوجی صدر سٹی میں مہدی ملیشیا کے اراکین کو گرفتار کرنے کےلیے داخل ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||