پانچ امریکی فوجیوں سمیت 67 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر بلاد میں ہونے والے کم سے کم تین کار بم حملوں میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق باسٹھ افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ مغربی شہر رمادی کے دھماکےمیں پانچ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلادی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد باسٹھ تک پہنچ گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 68 بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کہ بلاد میں بم حملے مسلسل ہوئے۔ ایک مقامی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بری طرح جھلس گئے ہیں۔ عراقی دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع بلاد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کہا جاتا ہے کہ کم از کم تین بم حملے تو کار بموں کے ذریعے کیے گئے ہیں۔ اس شہر کو شیعہ اکثریتی علاقہ خیال کیا جاتا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ بم حملے ایک مارکیٹ اور ایک بینک کے قریب اس وقت ہوئے ہیں جب اندھیرا چھا چکا تھا۔ رمادی میں جسے امریکہ مخالف مزاحمت کا ایک بڑا گڑھ اور سنیوں کی اکثریت پر مشتمل شہر کہا جاتا ہے اکثر امریکی فوجیوں پر حملے کیے جاتے ہیں اور وہاں مزاحمت کاروں کو ختم کرنے کی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ عراق کے مغربی شہر رمادی میں دھماکہ سڑک کے کنارے ہوا اور اس میں پانچ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ رمادی میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ فوجیوں کا کہنا ہے کہ بم دھماکہ اس وقت ہوا جب بدھ کو آپریش کی کارروائی شروع کی جانے والی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بلاد کی سبزی مارکیٹ میں کیا جانے والا حملہ خود کش تھا۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے ہیں جب عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر نے کہا ہے کہ عراق کے مستقبل کے تعین کے لیے اور آئین پر ریفرنڈم کے لیے کے حوالے سے آئندہ پچھہتر دن انتہایی اہمیت کے حال اور ایک امتحان ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||