’عراق سے فوجیں نہیں نکالیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت عراق سے اپنی فوجیوں واپس نہیں بلائے گی۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کا یہ طریقہ نہیں کہ پسپائی اختیار کر لی جائے اور معصوم لوگوں کو مذہبی انتہا پسندوں اور صدام کی باقیات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا تاکہ وہ جمہوری طریقے سے اپنی حکومت بنا سکیں جیسا کہ برطانوی عوام کرتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے ساحلی شہر برائٹن میں خطاب کے دوران امریکہ سے تعلقات اور عراق کی صورت حال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر گیارہ کے بعد انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ برطانیہ کی جگہ امریکہ کے ساتھ ہے اور اب بھی وہ اسی بات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے کہ نیویارک میں ہونے والی دہشت گردی کا اصل نشانہ ’ہم سب تھے اور ہیں اور ہماری معاشرت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عالمی جدوجہد ہے اور عراق میں یہ انتہائی شدت سے لڑی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ بہت سے لوگ صدام حسین کو طاقت کے ذریعے اقتدار سے علیحدہ کرنا کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن برطانوی فوجی گزشتہ دو سال سے بہادری اور مستقل مزاجی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ یہ برطانوی فوجی ستائیس دوسرے ملکوں کے فوجیوں کے ساتھ سلام کے مستحق ہیں جو اقوام متحدہ کی مکمل حمایت سے عراق میں موجود ہیں۔ بصرہ میں حال ہی میں ہونے واقعات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہاں چند سو افراد نے برطانوی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور چند ہزار افراد بغداد کے اردگرد پر تشدد کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اس کے نتیجے میں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ لیکن پچاسی لاکھ عراقیوں نے انتخابات میں ووٹ ڈال کر بتا دیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ان کی اکثریت ہماری طرح دہشت گردی سے نفرت کرتی ہے اور وہ بھی ہماری طرح اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ واضح کرنا ہے کہ جو لوگ برطانیہ میں سکونت اختیار کرتے ہیں ان کو وہ سب حقوق حاصل ہونے چاہیں جن پر ہم یقین رکھتے ہیں۔ برطانیہ میں کوئی دوسرے درجے کا شہری نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شہریت کہ ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہونی چاہیں اور برطانیہ میں آنے والوں کو ہماری قوم سے وفا کرنی چاہیے، ہماری اقدار اور ہماری معاشرت کا احترام کرنا چاہیے۔ ٹونی بلیئر نے ملکی سیاست کے حوالے سے کہا کہ لیبر پارٹی کو اپنی روایات برقرار رکھنے کے لیے تبدیلی لانے والوں کی جماعت بننا ہوگا۔ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی تقریر سے جس میں لیبر پارٹی کی پالیسیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا یہ اشارے ملے ہیں کہ ان کا وزارت اعظمیٰ سے قبل از وقت چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ٹونی بلئیر نے کہا کہ فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ انیسویں صدی کے قوانین سے اکیسویں صدی کے جرائم سے نہیں لڑا جاسکتا۔ اپنی تقریر میں ٹونی بلیئر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں اپنی اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’نیو لیبر‘ پارٹی تبدیلی لانے والوں کی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلیاں لانے ہی میں پارٹی کی بقاء ہے۔ انہوں نے کہا اسی طریقے سے وہ چوتھا انتخاب بھی جیت سکتے ہیں اور مستقبل کے باقی انتخابات میں بھی ان ہی کی فتح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ عالمگیریت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے، شہری سہولیات پر اتفاق رائے ہو اور جرائم اور غیر سماجی رویوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ لیبر پارٹی کی مستقبل کی قیادت کے بارے میں ہونے والی چہ میگوئیوں کے پس منظر میں ہونی والی اس کانفرنس میں ٹونی بلیئر نے اپنی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر مرکوز کر دیں کہ بحیثیت وزیراعظم اور پارٹی سربراہ کہ ان میں اب بھی وہی عزم اور حوصلہ باقی ہے۔ انہوں نے کہ حکومت پر جو بھی تنقید کی جاتی رہی لیکن اس کو ان امور پر توجہ دینی ہے کہ جن سے پارٹی اور ملک کا مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کو موجود دورہ کے تقاضوں سے روشناس کرانا ہو گا تاکہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے۔ ’اس وجہ سے ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔ نئی لیبر سے پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف جو بدلتی دنیا کا تقاضہ ہے۔‘ ٹونی بلیئر نے کہا کہ ’نیو لیبر‘ نے اقدار کی جنگ کی جیت لی ہے لیکن اس کو نئے دور کے تقاضوں سے روشناس کرانا ہو گا تاکہ اس کا مستقبل تابناک بنایا جا سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||