بلیئر کی فوج کی واپسی کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اگلے سال مئی کے مہینے میں برطانوی فوج کی عراق سے واپسی شروع ہو جائے گی۔ بی بی سی کو اتوار کو ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق سے واپسی کا دارومدار وہاں کام ختم ہونے پر ہے۔ تاہم وزیر دفاع جان ریڈ اشارہ دے چکے ہیں عراق میں عراقی فوج کو معاملات سونپنے کا کام برطانوی فوج کی بتدریج واپسی کے بعد اگلے سال شروع ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم بلیئر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جس ’شدت‘ سے کچھ حلقوں نے سیاسی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے وہ ان کے لیے حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا عراق میں جاری تشدد کی کارروائیوں اور مزاحمت کاروں کے عراقی پولیس کی صفوں میں داخلے کے باوجود بھی وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ عراق پر حملے ہی کا فیصلہ کرتے۔ برطانوی روزنامے آبزرور میں خبروں میں اشارہ دیا گیا تھا کہ برطانیہ ’نجی‘ طور پرجاپان کو بتا چکا ہے کہ وہ اگلے سال مئی میں جنوبی عراق سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دے گا۔ ٹونی بلیئر نے خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے انہیں اس وقت تک عراق میں رہنے کا مینڈیٹ دیا ہے جب تک عراق کی حکومت ایسا چاہتی ہے اور جب تک عراق کی فوج اپنے فرائض نبھانے کے قابل نہیں ہو جاتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||