ٹونی بلیئر: سخت قوانین کا دفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر نےملک میں انسدادِ دہشتگردی کے سخت قوانین کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بیان دہشتگردی سے متعلق نئے قوانین کے مسودے کی اشاعت کے بعد جاری کیا۔ مسٹر بلیئر نے کہا کہ ’ آزادی‘ سے متعلق خدشات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور حقوق حاصل کرنے کےلیے ہمیشہ فرائض بھی پورے کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ تقریباً تمام یورپی ممالک دہشت گردی سے متعلقہ قوانین کو سخت بنا رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے روایتی شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے، میرے نزدیک وہ بات کو بڑھا کر بیان کر رہے ہوتے ہیں‘۔ ٹونی بلیئر نے اس بات سے انکار کیا کہ برطانوی شہری حقوق کے خاتمے کے بارے میں کوئی بات ہو رہی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے اقدامات اتنے سخت نہیں تھے کہ جس سے لوگوں کو یہ سبق مل سکے کہ ہم دہشتگردی کرنے یا اس کا پرچار کرنے والوں کو برداشت نہیں کریں گے‘۔ ادھر برطانوی وزیرِ داخلہ چارلس کلارک نے جمعرات کو ان مطالبات کی حمایت کی جس کے تحت پولیس کو مشتبہ افراد کو بنا الزام لگائے تین ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دینے کی بات کی جار ہی ہے۔ اس وقت مشتبہ افراد کو بنا مقدمہ درج کیے دو ہفتے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ چارلس کلارک ان قوانین کے معاملے پر تمام جماعتوں کا اتفاق چاہتے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد پارلیمان سے منظور کروایا جا سکے۔ لیکن حزبِ اختلاف کی جماعتیں پہلے ہی ان قوانین کے کچھ حصوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||