پابندیوں کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حزب اختلاف کی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ چارلس کینیڈی نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اس تجویز پر اعتراض کیا ہے کہ ایسی تمام مساجد ، مذہبی کتابوں کی دکانیں اور ویب سائٹس جو مبینہ مذہبی نفرت پھیلا رہی ہیں انہیں بند کر دینا چاہیے۔ مسٹر کینیڈی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے کو فائدہ ہوگا۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو میں مسٹر کینیڈی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر وزیر اعظم بلیئر نے مذہبی نفرت کے نام پر غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا تو بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آپ اپنی مرضی کے قوانین نہیں بنا سکتے۔ ہم نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اور ہمارے عدلیہ کے نظام کا چھوٹی موٹی مشکلات کے باوجود عموماً اچھا ریکارڈ رہا ہے‘۔ مسٹر کنیڈی نے سوال کیا ہے کہ ’کیا ہم لوگوں کو ان ملکوں میں واپس بھیجیں گے جہاں انہیں اذیت، جیل یا موت کا سامنا ہو سکتا ہے‘۔ البتہ برطانیہ کی عدلیہ کے سربراہ یا لارڈ چانسلر، لارڈ فیلکنر نے دہشت گردی کے خلاف قوانین میں سختی کرنے کے حکومت کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں متعین اہداف کے خلاف بھرپور اور مضبوط اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ہم عوام کو وہ تحفظ فراہم کر سکیں جو ان کا حق ہے۔ یہ افراد ہی ہیں جو نوجوان لڑکوں کو خود کش بمبار بننے پر اکسا رہے ہیں اور ہمیں انہی افراد کو نشانہ بنانا ہے‘۔ اگرچہ برطانوی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کنزرویٹو پارٹی نے سربراہ مائیکل ہاورڈ نے ان نئے اقدامات کی حمایت کی ہے لیکن انکا کہنا ہے کہ وہ بھی اس خیال سے خوش نہیں ہیں کہ قوانین افراد کو نظر میں رکھ کر بنائے جائیں‘۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کس طرح انسانی جانوں کی حفاظت اور انسانی حقوق کے احترام میں توازن قائم رکھا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||