عراق : تشدد میں اضافے کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں اگلے ماہ نئے آئین پر ہونے والے ریفرنڈم سے پہلے پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور امریکی فوج ان پر تشدد کارروائیوں سے نبٹنے کے لیے تیار ہیں۔ صدر بش کو عراق کی صورت حال کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اور عوامی رائے عامہ کے تجزیوں کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اب عراق میں جنگ کی حمایت میں نہیں ہیں۔ صدر بش کا یہ بیان ایک ایسے دن سامنے آیا ہے جب ایک خاتون خود کش بمبار نے آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس خاتون خود کش بمبار نے عراق کےشمالی علاقے تلفار میں فوجی بھرتی کے ایک مرکز میں گھس کر دھماکہ کر دیا۔ شدت پسند تنظیم القاعدہ نے انٹر نیٹ پر یہ دعوی کیا ہے کہ یہ دھماکہ انہوں نے کرایا ہے۔ وائٹ ہاوس کے روز گارڈن میں صدر بش نے کہا ’ہمیں خطرہ ہے کہ ریفرنڈم میں خلل ڈالنے کے لیے وہ جو کچھ ان کے بس میں ہے کریں گے۔‘ صدر بش نے یہ بیان عراق میں تعینات دو امریکی جرنیلوں سے ملاقات کے بعد دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی فوجیں اس تشدد سے نبٹنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے القاعدہ کے ابو اعظم کی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے اور اب وہ مزاحمت اور شدت پسند تنظیموں کے سرکردہ ارکان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار اولیور کونوے کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد دو ہزار کے نفسیاتی ہندسے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تازہ ترین بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر بش امریکی عوام کو ذہنی طور پر عراق میں مزید امریکی فوجیوں کی ممکنہ ہلاکتوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ انہوں نےعراق میں امریکی فوجی کے اعلی ترین اہلکار جنرل جارج کیسی اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جان ابی زاد سے کہا ہے کہ عراق کی صورت حال پر کانگریس کو آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں اور عراق میں ان کے مشن کے لیے کانگریس کی حمایت بہت ضروری ہے اور امریکیوں کو عراق میں حالیہ دنوں میں ہماری فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیوں سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو فوجی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||