صدر بُش کے اہم ساتھی پر الزامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے رہنما اور صدر جارج بُش کے اہم ساتھی پر ان کے ملک کی ایک عدالت میں مجرمانہ سازش کے ایک مقدمے میں فرد جرم عائد کی ہے۔ یہ اقدام ٹیکساس میں ایک جیوری نے کیا۔ ٹام ڈی لے پر لگے الزامات کا تعلق مالی معاملات سے ہے۔ اس مقدمے میں ان کے دو ساتھی بھی ملزم ہیں۔ ٹام ڈی لے صدر بُش کی انتخابی مہم میں چندہ جمع کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ ان کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ بہت زیادہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹام ڈی لے کے خلاف غیر قانونی طور پر چندہ جمع کرنے کے الزام کی تفتیش ہو رہی ہے۔ ڈی لے کے ترجمان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مخالفین کی سازش قرار دیا ہے۔ ٹام ڈی لے نے جو امریکی کانگریس میں دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں الزامات کا جواب دینے کے لیے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ صدر بُش اب بھی ٹام ڈی لے کو اپنا ایک اہم ساتھی سمجھتے ہیں جن کے ساتھ مل کر انہوں نے امریکہ کے لیے کام کیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان پر لگے الزامات حکمران رپبلکن پارٹی پر دباؤ میں اضافے کا باعث بنیں گے کیونکہ ایوان بالا سینٹ میں ان کے سربراہ بِل فرسٹ کے خلاف بھی پہلے سے مالی بے قاعدگی کے ایک معاملے میں تفتیش ہو رہی ہے۔ فرِسٹ نے اپنی ایک کمپنی کے حصص اس کی قیمتیں گرنے سے چند روز پہلے فروخت کیے تھے۔ اس وقت صدر بُش کی مقبولیت کو بھی ریکارڈ کمی کا سامنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||