چینی اور ایڈورڈ کے درمیان بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور رپبلکن پارٹی کے نائب صدر کے عہدے کے امیدواروں کے درمیان بھی بحث کو براہ راست ٹی پر نشر کیا جائے گا۔ انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر بش اور جان کیری کے درمیان شدید مقابلے کے پیش نظر جان ایڈورڈ اور ڈکی چینی کے درمیان اس براہ راست ٹی بحث نے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔ عوامی رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق صدرجارج بش اور جان کیری کے درمیان ٹی وی پر نشر ہونے والی براہ راست بحث کے بعد جان کیری کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نائب صدر کے عہدے کے امیدواروں کے درمیان ٹی وی پر ہونے والی اس براہ راست بحث پر انہیں ہی اصولوں کا اطلاق ہو گا جو کہ صدارت کے امیدوارں کے درمیان ٹی وی بحث پر ہوتے ہیں۔ یہ ٹی وی بحث بدھ کو کلیولینڈ اوہایو سے نشر کی جائے گی۔ دونوں امیدوار باری باری سوالات کا جواب دیں گے اور ان سوالوں کے جواب دینے میں انہیں وقت کی پابندی بھی کرنی پڑے گی۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ صدارتی امیدواروں کی مقبولیت میں فرق کم ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس صدارتی انتخاب میں لوگ کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ نائب صدر کے عہدے کے ان دونوں امیدواروں کے اسٹائل میں بھی بہت فرق ہے جو بھی لوگ کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ڈک چینی جن کی عمر تریسٹھ سال ہے اور وہ گزشتہ تین دہائیوں سے ملکی سیاست میں شریک ہیں۔ جان ایڈورڈ اکاون برس کے ہیں اور انہیں نارتھ کیلی فورنیا سے سینیٹ کا رکن بنے صرف چھ سال ہوئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ رپبلکن کو یقین ہے کہ ڈک چینی اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگوں کو امید ہے کہ جان ایڈورڈ وکیل ہونے کے ناطے اپنے استدلال سے لوگوں کو متاثر کریں گے۔ اس بحث میں ملکی اور داخلی مسائل پر بھی بحث ہونے کی توقع ہے لیکن مبصرین کو یقین ہے کہ عراق کا مسئلہ اس بحث پر چھایا رہے گا۔ توقع ہے کہ ایڈورڈ اپنے مد مقابل ڈک چینی کو عراق کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنائیں گے کیونکہ ڈک چینی عراق پر حملے کے سب سے بڑے حامی اور القاعدہ اور صدام حسین کے درمیان روابط کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||