BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش اور کیری کی عراق پر جنگ
جارج بش
جارج بش اور جان کیری کی عراق پر بحث
امریکی انتخابات کے ایک اہم مرحلے میں صدر جارج بش اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جان کیری کے درمیان عراق میں جنگ اور ہوم لینڈ سکیورٹی پر ایک ٹی وی مباحثہ ہوا ہے۔

جان کیری نے کہا کہ عراق کی جنگ دہشت گردی کے خلاف وسیع جنگ سے انحراف ہے۔

صدر بش نے کہا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے متعلق پر امید ہیں کیونکہ انہوں نے امریکی عوام کو دکھا دیا ہے کہ کس طرح قیادت کی جاتی ہے۔

جان کیری نے صدر بش کی عراق پالیسی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عراق پر حملے نے امریکہ کو تنہا کر دیا اور اسلامی دنیا میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ امریکہ اسلامی دنیا کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلامی دنیا سے کہیں گے کہ وہ دہشت گردوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع نہ دیں۔

صدر بش نے عراق پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں دہشت گردی سے نبٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو پنپنے ہی نہ دی دیا جائے۔ صدر بش کے مطابق حملہ بہترین دفاع ہے۔

صدر بش نے کہا کہ ان کو اپنی کامیابی کا یقین ہے کیونکہ انہوں نے امریکی عوام کی رہنمائی کا حق ادا کیا ہے۔اور وہ ہر وہ کام کریں گے جس امریکی عوام کے تحفظ کا احساس اجاگر ہو۔

کیری نے کہا صدر بش نے عراق پر بغیر کسی ہوم ورک کیے ہوئے حملہ کیا اور آج عراق میں امریکہ کو حملہ آور تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا صدر جارج ڈبلیو بش کے والد صدر بش نے 1990 میں عراق کے اندر جانے سے اس لیے پرہیز کیا تھا کیونکہ ان کے پاس حملے کے بعد کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

جان کیری نے کہا کہ صدر بننے کے بعد ایسے منصوبہ پر عمل کریں گے تاکہ امریکہ چھ مہینے کے اندر عراق سے اپنی فوج نکالنے کی پوزیشن میں آجائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کو پوری کوشش ہو گی کہ امریکہ کی ساکھ بہتر ہو جائے۔
جان کیری نے کہا جب اسامہ بن لادن تورا بورا کے پہاڑوں میں محصور ہو چکا تھا تو صدر بش نے اسامہ بن لادن کو ختم کرنے کا کام افغان جنگجوؤں کے حوالے کر دیا۔ اور اپنی ساری توجہ عراق پر مرکوز کر لی تھی۔

جان کیری نے کہا عراق پر حملہ کرنے سے پہلے دوسرے ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔ عراق پر حملے کے بارے جان کیری نے کہا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد عراق پر حملہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے پرل ہاربر پر حملے کے ردعمل میں امریکہ میکسیکو پر حملہ کر دے۔

بحث کے آغاز میں صدر بش کے انتخابی حریف جان کیری نے کہا کہ امریکی سکیورٹی حلیفوں کے ساتھ مضبوط اتحاد پر منحصر ہے اور صدر بش نے اس اتحاد کو دنیا بھر میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ امریکہ کو اسامہ بن لادن اور صدام حسین دونوں سے نمٹنا تھا اور اس کے لیے عراق میں جنگ کو ترجیح دینا غلط نہیں تھا۔

صدر بش نے کہا کہ 11 ستمبر کے حملوں میں ملوث افراد میں سے ستر فیصد کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔

جان کیری کے مطابق امریکہ کو جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ پر خاص توجہ دینی چاہیے اور خاص طور پر سوویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد جوہری اسلحہ کو دہشت گردوں کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد