| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مزید پیسوں کا مطالبہ، کانگرس میں اختلافات
امریکی کانگرس میں صدر جارج بُش کی طرف سے عراق میں فوج کے قیام کے اخراجات اور تعمیر نو کے لئے اضافی ستاسی ارب ڈالر کے مطالبے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ کانگرس کی متعلقہ کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ اور حکومت کے دیگر نمائندوں پر بغیر وقت ضائع کئے کارروائی کے آغاز سے ہی مشکل سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کمیٹی کے ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کی کہ انہوں نے امریکی عوام اور کانگرس کو عراق میں اٹھنے والے ممکنہ اخراجات کے بارے میں صحیح طرح آگاہ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صدر بُش کو بھی ان کی انتظامیہ کے عراق پر حملے کا جواز پیش نہ کر سکنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ امریکی وزیر دفاع ڈانلڈ رمز فلڈ نے کمیٹی کے سامنے مدافعانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کے مقاصد کے لئے ستاسی ارب ڈالر کی قیمت امریکی عوام کے لئے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے کوشش میں کمی کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ’آزادی‘ کی حفاظت کے لئےدہشتگردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر پچاسی سالہ ربرٹ برڈ نےان کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’امریکی عوام کو کبھی نہیں بتایا گیا کہ وہ عراق میں ایک نئی قوم، ایک نئی حکومت بنانے اور اس ملک اور مشرق وسطیٰ میں جمہوریت متعارف کرانے جا رہے ہیں‘۔ سینیٹر بارڈ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں جا رہے ہیں‘۔ حکمران رپبلکن پارٹی کے ارکان نے کارروائی کے دوران حکومت کی حمایت جاری رکھی اور ڈیٹوکریک پارٹی کے ارکان کو کہا کہ ان کا رویہ نا مناسب ہے۔ عراق میں امریکی انتظامیہ کے سربراہ پال بریمر اور عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جان ابیزید کو بھی سینیٹ کی دفاعی امور کی کمیٹی میں اس طرح کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پال بریمر کا کہنا تھا کہ تعمیر نو کے لئے مانگے گئے بیس عشاریہ تین ارب ڈالر عراق میں استحکام کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے جواب میں سینیٹر رابرٹ کینیڈی نے کہا کہ حکومت کی پیش کردہ خوبصورت تصویر ہے اور زمینی حقائق میں بہت فرق ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||