نیواورلینز پولیس کے سربراہ مستعفیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمندری طوفان کترینا کا نشانہ بننے والے شہر نیو اورلینز کے پولیس سربراہ ایڈی کمپاس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پولیس کے سربراہ ایڈی کمپاس نے غیر متوقع طور پر اس طوفان سے چار ہفتے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ ہے ۔اس دوران ان کی فورس کو طوفان کے دوران کارکردگی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس چیف نے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔اس سے قبل نیوآرلینز کے پولیس کے محکمے نے اعلان کیا تھا کہ وہ طوفان کے دوران ڈھائی سو افسران کی غیر حاضری کی تحقیقات کرئے گا۔ امریکہ کے ایمرجنسی ایجنسی کے سابق سربراہ مائیکل براؤن نے کانگریس کے ایک پینل کے سامنے بیان میں کترینا طوفان کے دوران ریاستی اور مقامی حکام کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مائیکل براؤن جنہوں نے فیڈرل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی کی سربراہی سے استعفی دے دیا تھا کہا ہے کہ لویزیانا کے حکام لوگوں کے انخلاء پر تذبذب کا شکار تھے۔ مائیکل براؤن کانگریس کے اس پینل کے سامنے بیان دے رہے تھے جو کترینا طوفان کے دوران امدای کارروائیوں میں تاخیر کا باعث بنے والے عوامل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ مائیکل براؤن نے اس ضمن میں ذاتی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا۔ گزشتہ ماہ امریکی کی تاریخ کے بدترین سمندری طوفان نے دوران لویزیانا اور مسی سیپی کے علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی اور اس میں ایک ہزار کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ مائیکل براؤن نے کہا کہ لویزیانا کے گورنر کیتھ لین بلانکو اور نیو آرلینز کے میئر رے ناگین کے کاموں میں کوئی ربط نہیں تھا اور وہ لوگوں کے جبری انخلاء پر راضی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لویزیانا کے گورنر اور نیوآرلینز کے میئر کے درمیان اختلافات ختم کر کے انہیں ایک میز پر آ کر مشترکہ کوشش کرنے میں ناکام رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||