BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 09 September, 2005, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کترینا کی تباہی اور امریکہ کی امیج
کترینا نے لاکھوں لوگوں کو بےگھر کردیا
کترینا نے لاکھوں لوگوں کو بےگھر کردیا
نیو آرلینز، میسیسیپی اور لوئیزیانا میں سمندری طوفان کترینا کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے امریکی حکومت نے آغاز میں امداد پہنچانے میں جو تاخیر کی وہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ پوری دنیا میں امریکہ کی امیج سوپر پاور کی ہے جو جو چاہے کرسکتا ہے۔ ان علاقوں میں تباہی بھی جتنے بڑے پیمانے پر ہوئی اس کی بھی توقع کسے نے نہیں کی تھی۔ کترینا کے بعد ان علاقوں کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ سمندر میں گھر اور درخت بسادیے گئے ہوں۔ چاروں طرف پانی ہے اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ متاثرین میں زیادہ تر غریب اور سیاہ فام لوگ تھے، وہاں معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ خاندان جدا ہوگئے، اور لوٹ مار کے واقعات پر پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ حالات کو سدھرنے میں مہینوں نہیں برسوں لگ سکتے ہیں۔

کیا یہی امریکہ ہے؟ کترینا طوفان کے بعد آپ کی نظر میں امریکی کی شبیہ کیسے متاثر ہوئی ہے؟ پہلے آپ امریکہ کے بارے میں کیا سوچتے تھے اور اب کیا؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


امین اللہ شاہ، پاکستان:
دنیا کے جس کونے میں بھی غریب ہوں گے اس کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ ہوگا لیکن مغرب سے یہی کہوں گا:
’’دنیا میں قاتل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘‘

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
جی ہاں، یہی امریکہ ہے، حیرت ہو رہی ہے نہ آپ کو یہ سب دیکھ کر لیکن کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ بعض اوقات جو ہم سوچتے ہیں وہ ہوتا نہیں ہے۔ یہی سب کچھ امریکہ کے ساتھ ہوا ہے کیوں کہ کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہوسکتا تھا کہ امریکہ اپنے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرسکتا ہے۔ شاید یہی مکافات عمل ہے کہ خود سے ہی وہ ہوگیا جو امریکنز کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔

یوسف، پاکستان:
ہریکین کے بعد لوٹ مار کے واقعات سے واضح ہوجاتا ہے کہ امریکن سوسائیٹی میں تہذیب کی ترقی کتنی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں قانون کی عزت ہے لیکن انسانی زندگی کی نہیں۔۔۔

ندیم اختر اعوان، پاکستان:
پلیز آتھینٹِک نیوز، حقیقت پر مبنی، فراہم کریں۔

ساجد میاں، بریمپٹن:
میرے خیال سے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ اگلے بیس سالوں میں لوگ امریکہ کا زوال دیکھیں گے۔ جہاں تک امریکہ کی امیج کی بات ہے خدا قرآن میں کہتا ہے کہ جب میں کسی قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ ۔۔۔۔۔

احسان، پاکستان:
اللہ ہی واحد سوپر پاور ہے۔

علی خان، سول:
اصل میں قدرتی آفات کو کوئی بھی دنیاوی طاقت نہ روک سکتی ہے اور نہ اس کا مقابلہ ہوسکتا ہے۔ رہی بات امریکہ کی تاخیر کی تو وہ کالے لوگوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ یہ بات اب سب پر واضح ہو چکی ہے کیوں کہ گیارہ ستمبر کی اموات کا بدلا وہ پوری مسلم امت سے لے رہا ہے مگر یہاں تو کالے لوگ مرے اس لئے۔۔۔

فردوس ظفر، یو کے:
شکر کریں جارج بش نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو بدنام نہیں کیا کہ یہ ان ہی فنڈامنٹلِسٹ لوگوں کی بددعاؤں کا نتیجہ ہے، لہذا مدارس کی طرح مساجد بھی بند کی جائیں!

طاہر رفیق، خانیوال:
تو تو ہونا ہی تھا، قرآن میں اللہ فرماتا ہے جو لوگ اللہ کی بات کو نہیں مانتا وہ ایک دن پکڑ میں آجائے گا۔۔۔۔

کریم خان، ایڈمنٹن:
اس میں کوئی شک نہیں کہ قدرتی آفات کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں۔ انسان ہمیشہ ہارتا ۔یا ہے لیکن جس طرح امریکہ میں امدادی کاموں میں ست روی دیکھنے میں آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ امریکہ میں مزید مالکم ایکس اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر کِنگ پیدا ہوں گے۔۔۔۔

افتخار قریشی، لاہور:
اللہ کی لاٹھی بےآواز ہے جو کسی بھی سوپر پاور کو تنکے کی طرح اڑا سکتا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی کوئی آفت آئی تو حال تو وہی ہوگا جو کسی اور ملک میں ہوگا، فرق صرف یہ ہے کہ غریب ملک باہر سے امداد لیں گے جبکہ امیر ملک اپنے لوگوں سے اپیل کریں گے۔ لیکن امدادی کارروائیوں میں جو تاخیر ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ غریب کا حال پوری دنیا میں ایک جیسا ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
امریکہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔ یہ ادا اللہ کو پسند آئی اور اس نے امریکہ کو دکھانے کے لئے۔۔۔

طارق رانا، لندن:
ویت نام نے امریکہ کی ایک لاکھ ڈالر کی مدد کی۔ یہ تھی آج کی خبر۔ اس خبر پر جب میں نے اور غور کیا تو ویت نام کا کردار مجھے ایک ایسے غریب، بےحیثیت اور مظلوم دیہاتی ہے ۔۔۔۔

محمد یمین، اونٹاریو:
پہلے بھی امریکہ چوروں کا بادشاہ تھا، آج پتہ چلا غریبوں کا بھی غرب ہے۔ پہلے امریکہ سوپر پاور تھا، اب امریکہ اپنے لوگوں کو پانی اور خوراک بھی نہیں دےسکتا۔۔۔۔

طاہر چودھری، جاپان:
عوام چاہے امریکہ کے ہوں، برِٹش یا پاکستانی یا عراقی سب ایک جیسے ہیں۔ مظلوم، غریب، فرق صرف بش اور کمپنی یعنی چند لوگ جن کے پاس طاقت ہے ان کے دماغوں میں حوس ہے پوری دنیا کو غلام بنانے کی، اگر یہ ختم ہوجائے تو پوری دنیا جنت بن جائے۔۔۔۔

واحد مالی، کراچی:
صدر بش کو تحقیقت کرانا چاہئے کہ کہیں یہ طوفان کترینا القاعدہ نے تو نہیں بھیجا۔

راحیل قیوم، امریکہ:
امریکہ ابھی مواقع کی سرزمین ہے۔ فطرتی آفات کہیں بھی آسکتے ہیں لیکن دنیا کو امریکیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے امریکی اس آفت میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ہیں۔

اعجاز احمد، لاہور:
میں حیران ہوں کہ ابھی تک نہ ہی اس کارروائی کا ذمہ دار القاعدہ کو کہا گیا ہے اور نہ ہی القاعدہ نے اس کی ابھی تک ذمہ داری قبول کی ہے۔

ناہید ورک، کینیڈا:
یہ اللہ کا عذاب تھا جو کسی پر بھی آسکتا ہے۔ پتہ نہیں اللہ ہمیشہ معصوم کو کیوں مارتا ہے، ظالم کو کیوں نہیں مارتا؟۔۔۔

عقیل احمد، کراچی:
پہلے ہم امریکہ کو صرف مسلمانوں کی حد تک متعصب سمجھتے تھے لیکن اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نسلی منافرت ابھی بھی وہاں ہے جو کہ امریکہ کے تہذیب یافتہ ہونے کے دعوے کی نفی کرتی ہے۔ رہی بات لوٹ مار کی تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ سیاہ فام لوگوں کی وجہ سے امدادی کاموں میں زیادہ تازی اور پھرتی نہیں دکھائی گئی۔۔۔۔

رضوان اللہ خان، بحرین:
اللہ ہی عظیم ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی سوپر پاور نہیں۔ بہت افسوس اور غم کی بات ہے۔ اللہ اپنا کرم فرمائے۔۔۔۔

ریاض فاروقی، دبئی:
اس وقت بش انتظامیہ میں زیادہ طور وہ لوگ ہیں جن کے بیکگراؤنڈ تیل کمپنیوں سے ہے۔ جب جہاں تیل ہوگا وہاں وہ لوگ فوج سمیت پہنچ جائیں گے۔ لیکن طوفان سیلاب سے کسی کو بچانے میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ چاہے طوفان ان کا اپنے ملک میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔

نظیر علی زیدی:
خدا نے امریکہ کو موقع دیا ہے کہ تعمیر نو کرے، یہ بش کی خواہش تھی۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
کترینا میں امریکی امداد کا تاخیر سے پہنچنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ امریکی حکومت کتنی تعصب پسند ہے۔ اگر یہ تباہی کسی ایسی اسٹیٹ میں ہوتی جہاں سفید فارم لوگوں کی اکثریت ہوتی اور جہاں امریکی مفاد ہوتا تو امریکہ میں ایمرجنسی کا نافذ ہوجاتا۔

عبدالغفور، ٹورانٹو:
یہاں ٹورانٹو میں زیادہ تر لوگ امریکن انتظامیہ کی بدانتظامی کو نسلی امتیاز کی نظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ویسے یہ بھی ہے صحیح، کیوں کہ جب نیو یارک پر حملہ ہوا تو امریکہ کی پوری مشینری بہت تیزی سے حرکت میں آگئی تھی۔

عمران شفیق، امریکہ:
وائلڈ لائف کی رپورٹ کے مطابق کترینا ہریکین کی وجہ سے صرف دو جانور مارے گئے کیوں کہ انہوں نے زو کے جانوروں کی سیفٹی کا آرنجمنٹ پہلے سے کر رکھا تھا۔ جب کہ انسانوں کے لئے کوئی بھی آرنجمنٹ نہ کرنے کی وجہ سے دس ہزار سے بھی زیادہ انسان مر گئے۔۔۔۔

رابعہ ارشد، ناروے:
ہمیشہ سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے، کرتا کوئی ہے، سزا کسی اور کو ملتی ہے۔ اب بش صاحب کی سزا بےچارے عوام کو۔۔۔۔

زدران، جرمنی:
میرے خیال سے اگر امریکہ سوپر پاور ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ نہیں، جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خدا ہوتا ہے۔ امریکہ کو اس آفت سے ڈرنا چاہئے ورنہ اس سے بڑی آفت بھی آسکتی ہے۔۔۔۔

میاں خالد جاوید، لاہور:
ہم نے کیا سوچنا ہے امریکہ کے بارے میں۔ ہم تو حیران ہیں ابھی تک القاعدہ یا کسی مسلم تنظیم کا نام کیوں نہیں آیا۔۔۔۔

صائمہ خان، لاہور:
میں تعجب کررہا ہوں کہ ایک دنیا کا ایک سوپر پاور ہے، دنیا کے نوجوانوں کے لئے خواب کی دنیا، جو پانی کے رحم و کرم پر ہے۔ سونامی بھی تباہی لایا لیکن اس میں پہلے سے کچھ معلوم نہیں تھا۔ لیکن امریکہ میں کترینا کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا، وارننگ تھی، ممکنہ تباہی کی نوعیت کے بارے میں بھی معلوم تھا۔ لیکن یہ سوپر پاور کچھ نہیں کرپایا۔۔۔۔

خان گل خان جادون، سعودی عرب:
امریکہ کے پاس اب پیسے ہی نہیں ہیں۔ ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ امریکہ کا زوال شروع ہوا گیا ہے، اب اگلے پچیس سال میں امریکہ روس سے بھی فقیر ہوگا۔۔۔۔

موسیٰ سلیم، راولپنڈی:
میرے خیال میں یہ قدرتی آفت ہے۔ یہ کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔ رہا سوال امریکہ کے بارے میں سوچنے کا تو جو پہلے سوچتے تھے اب بھی وہی سوچتے ہیں۔

مرتضی محمدی، سوئٹزرلینڈ:
میرے خیال میں یہ سب اللہ کا غذب ہے جو امریکہ کو بتانے کے لئے بےجا ہے، خدا اس ۔۔۔۔ (واضح نہیں)

تنویر بدر، ٹیکسس:
امریکہ میں نسلی امتیاز ہے۔ اگر آپ ان کی طرح نہیں دکھائی دیتے، تو آپ مختلف ہیں، یو آر ناٹ ویلکم۔

ڈاکٹر محمد عرفان اللہ، پشاور:
جہاں تک یونیوپلر پاور کی بات ہے، یہ سمجھتا ہوں کہ بلیک اور مسلمان امریکہ میں ایک ہی جیسے ہیں۔۔۔۔

اسامہ شاہ، گجرانوالہ:
امریکہ صرف ایک ہوا ہے، اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی انٹیلیجنس ہے، باقی اس ملک کے لوگ بھی انسان ہیں لیکن ان کے آپس کا اتحاد بہت کاؤنٹ کرتا ہے جو ہم لوگوں میں ختم ہے۔ ابھی اس کا امداد کا پہنچانا اس وجہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک طاقت سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ کوئی قوم اس پہ حملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتی۔۔۔۔

رب نواز، بیلجیئم:
ہریکین کترینا سے امریکن مینٹالیٹی مزید کلیئر ہوگئی ہے: زندہ اسے رہنا چاہئے جس کے پاس پیسہ ہے۔

فہیم الدین، کراچی:
اللہ کا عذاب ہے، اتنی بڑی طاقت بھی کچھ نہیں کرسکی۔ انشاء اللہ اسی طرح ہی برباد ہوجائے گا۔

عبدالباسط، لندن:
میرے خیال میں امریکہ کو اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی پاور اب دوسرے ملکوں سے مدد لے رہی ہے، حیرت اس بات پر ہے کہ اب تک کسی مسلمان کا نام کیو سامنے نہیں آیا کہ یہ سب کیا دھرا اسی کا ہے۔

66’آپ نے کیا دیکھا؟‘
قطرینہ سے تباہی کے اپنے تجربات ہمیں بھیجیں۔
نیو آرلینز میں ہوا کیا
امریکی شہرمیں تباہی سے پہلے اور بعد کی تصاویر
66قطرینہ کی تباہی
امریکہ میں تاریخ کے بدترین طوفان کی تصاویر
66نئے سوالات کےطوفان
قطرینہ نےامریکہ کااصل چہرہ بےنقاب کر دیا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد