قطرینہ: معاشرے کااصل چہرہ بےنقاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قطرینہ نامی سمندری طوفان نے امریکہ کے ساحلی علاقوں پر تباہی مچائی ہے۔ نیو آرلینز سمیت کئی شہروں میں زندگی جیسے اجڑ کر رہ گئی ہے۔ وہیں کئی سوالوں نے سر اٹھایا ہے۔ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اس شہر کی گلیوں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے غریب سیام فام افراد ہیں۔ اس شہر کی اکثریت سیاہ فاموں پر مشتمل ہے جن کی ایک چوتھائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ اس صورت حال نے سیاہ فام امریکی رہنماؤں میں غم وغصہ پیدا کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ قطرینہ نے امریکہ کے رخ سے نقاب اٹھا دیا ہے اور امریکی معاشرے میں فرق صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ آرلینز شہر اپنے جاز کلبوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ مگرملک کی سب سے زیادہ غریب اس ریاست کے تین بچوں میں سےایک غریب ہے۔ اس طوفان نے ان غریبوں کی زندگیوں میں بھی طوفان برپا کر دیا ہے۔ ایک حالیہ امریکی مردم شماری بتاتی ہے کہ اس شہر کے بیس فیصد لوگوں کے پاس ایک گاڑی تک نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کے سیاہ فام اراکین نے متاثرین کو امداد فراہم کرنے کی رفتار پر بھی تنقید کی ہے۔ کچھ لوگو ں کا خیال ہے کہ اس سست رفتاری کی وجہ یہ ہے کہ متاثرین غریب ہیں۔ دوسروں نےاس واقعے کی اصل کوریج نہ کرنے پر ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ قطرینہ کے بعد معاشرے میں غیرمساوی رویوں کی بات بھی آئے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||