قطرینہ: ایک ڈاکٹر کی رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر گریگ ہینڈرسن امریکہ کے شہر نیو آرلینز میں ایک ڈاکٹر ہیں۔ سمندری طوفان قطرینہ کی تباہی کے بعد وہ شہر میں ہی رہے۔ نیو آرلینز کے رِٹز کارلٹن ہوٹل میں، جہاں دیگر ڈاکٹروں کے ساتھ وہ ایک کانفرنس میں شریک تھے، انہوں نے ایک عارضی ہسپتال کا قیام کیا۔ وہاں سے ڈاکٹر ہینڈرسن نے طوفانی سیلاب سے پھیلنے والی تباہی کی معلومات اپنے دوستوں کو ارسال کرنی شروع کی۔ ڈلاس میں ان کے ایک دوست ایس سائر نے ڈاکٹر ہینڈرسن کی ایک رپورٹ بی بی سی کو فراہم کی جو حسب ذیل ہے: ’ذاتی طور پر میں اور میری فیملی ٹھیک ہیں۔ میری بیوی اور دو چھوٹی بیٹیاں میسیسیپی کے شہر جیکسن میں اب محفوظ ہیں۔ میں اب عارضی طور پر نیو آرلینز کے رِٹز کارلٹن ہوٹل میں ہوں۔ یہ ہوٹل کنال اسٹریٹ پر واقع کی ایک پرانی عمارت میں ہے جسے کچھ کم نقصان پہنچا۔ دوسرے ہوٹلوں کو کافی نقصان ہوا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، اور ہوٹل کے مہمانوں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچانا پڑے گا۔ پیر کی شب پانی آگیا۔ کنال اسٹریٹ اب ایک کنال (دریا) میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ڈاؤن ٹاؤن کی تمام عمارتوں کی پہلی منزلیں پانی میں ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ چیریٹی ہسپتال اور تولین ہسپتال سیلاب کی وجہ سے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ مریضوں کی طبی امداد کرنے کی ان کی اہلیت محدود ہے۔ یہاں اوچسنر واحد ہسپتال ہے جو پوری طرح سے ٹھیک کام کررہا ہے۔ لیکن میں نے ان سے بھی بات کی اور انہوں نے بتایا کہ جنرٹروں سے کام چلارہے ہیں لیکن پانی اور غذا کی کمی ہے۔ شہر میں پینے کا پانی نہیں ہے، نکاسئ آب کے وسائل باقی نہیں رہے، بجلی نہیں ہے، اطلاعات کی فراہمی کے وسائل بھی کام نہیں کررہے، لاشیں ابھی نکالی جارہی ہیں جو سیلاب میں بہتی ہوئی پائی گئیں۔ ہم فکرمند ہیں کہ کالرا پھیل سکتا ہے، پولیس کے پاس بھی اطلاعات کی ترسیل کے وسائل نہیں ہیں۔ پولیس کے کچھ مسلح افراد یہاں ہوٹل میں ہیں تاکہ امن عامہ کو بحال رکھنے کی کوشش کرسکیں۔ یہ مشکل ہے کیوں کہ لوٹ جاری ہے۔ لیکن اس میں سے لوٹ کے زیادہ تر واقعات چوری کے لئے نہیں ہیں۔ یہ غریب اور پریشان لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کو گھر نہیں، طبی سہولیات نہیں، کھانے کے لئے اشیاء نہیں، پانی نہیں، تاکہ یہ اپنے لوگوں کی مدد کرسکیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسے کچھ لوگوں کے پاس ہتھیار ہیں، یہ لوگ خطرناک ہیں۔ ہمیں بندوق چلنے کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ کنال اسٹریٹ کے بیشتر علاقے پر مسلح لوٹیروں نے قبضہ کررکھا ہے۔ ہم امید کررہے ہیں کہ نیشنل گارڈز کے ارکان ضروری تعداد میں یہاں آجائیں۔ راتوں رات طبی سہولیات اور ہسپتالوں کی حالت خراب ہوچکی ہیں۔ ہوٹل میں کئی لوگ بوڑھے اور بچے ہیں۔ کئی ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں مختلف نوعیت کی بیماریاں لاحق ہیں۔ ہم نے ہوٹل کے فرینچ کوارٹر بار میں ایک عارضی ہسپتال قائم کیا ہے۔ ہمارے پاس سات ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم ہے۔ ہم امید کررہے ہیں کہ پورے سینٹرل بزنس ڈِسٹرکٹ اور فرینچ کوارٹر علاقے میں طبی سہولت کا یہی واحد مرکز ہے۔ بڑی مشکل سے پولیس کی مدد سے آج ہم لوگ کنال اسٹریٹ پر والگرینز (دوا کی دکان) پر پہنچے۔ پوری فارمیسی اندھیرے میں ہے اور پانی بھرا ہوا ہے۔ ہم نے تمام ادویات کو کوڑے کے تھیلوں میں بھر لیا۔ ہم امید کررہے ہیں کہ ہمیں مختلف نوعیت کے طبی مسائل اور زخموں سے نمٹنا پڑے گا۔ خدشہ ہے کہ انفیکشن اور کالرا بڑے مسائل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نیشنل گارڈز کہاں ہیں؟ ہم ہیلی کاپٹروں اور جیٹ کی آوازیں سنتے ہیں جو آسمان میں منڈلا رہے ہیں۔ لیکن زمین پر پولیس کی موجودگی نہیں ہے، جس کی وجہ سے لوٹ ہورہی ہے۔ امدادی ادارے ریڈ کراس اور سیلویشن آرمی بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ہاں مارشل لاء ہے اس لئے ہم اپنے گھروں کو بھی نہیں جاسکتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کب تک چلے گا، یہ میری سب سے بڑی فکر ہے۔ صدمہ پہنچتا ہے جب ہم نقصانات کے بارے میں سوچتے ہیں، کتنا وقت لگے گا پھر سے یہ سب کچھ بنانے میں۔ اور اتنے لوگ مرگئے ہیں۔۔۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||