ریفرنڈم کا قانون نہیں بدلے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پارلیمان نےملک بھر میں آئین پر ہونے والے ریفرنڈم کے قوانین میں تبدیلی سے متعلقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ ایک مختصر بحث کے بعد ایوان کے ایک سو انیس اراکین نے اس فیصلے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اٹھائیس نےاس کی مخالفت کی۔ رائے شماری کے وقت دو سو پچھہتر اراکین پر مشتمل ایوان کے نصف ممبران ایوان میں موجود تھے۔ ووٹنگ کے بعد حکومتی ترجمان لیتھ کبہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت آئینی عمل کو قانونی بنانا چاہتی ہے اور ہم ریفرنڈم کے نتائج سے قطع نظر اس عمل کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں‘۔ اگر ان قوانین پر عملدرآمد ہوتا تو ملک کی سنّی آبادی کے لیے اس آئین کے مسودے کو مسترد کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔ پارلیمان نے اب فیصلہ کیا ہے کہ پرانے قوانین لاگو کیے جائیں۔ امریکہ اور اقوامِ متحدہ بھی پرانے قوانین کے نفاذ کے حق میں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ اگر نئے قوانین کے تحت ریفرنڈم ہوتا تو وہ عالمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ عراقی پارلیمان میں شیعہ مذہبی جماعتوں اور کرد جماعتوں کواکثریت حاصل ہے اور وہ نئے آئین کی حمایت کر رہی ہیں۔ سنّی عرب رہنماوں نے مجوزہ تبدیلیوں کی مخالفت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلیاں عوام کو ویٹو کے حق سے محروم رکھنے کی کوشش ہے۔ اتوار کو عراقی پارلیمان نے فیصلہ کیا تھا کہ آئینی مسودے کو مسترد کرنے کے لیے کل رجسٹرڈ ووٹروں کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی نہ کہ ڈالے گئے ووٹوں میں سے دو تہائی ووٹوں کی۔ اس تبدیلی سے مسودے کے مسترد ہونے کے امکانات کم ہو گئے تھے کیونکہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں ٹرن آؤٹ کم رہنے کا امکان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے حکام پندرہ اکتوبر کے ریفرنڈم سے قبل عراقی عوام میں نئے آئینی مسودے کی پچاس لاکھ کاپیاں تقسیم کر ر ہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||