’برطانوی فوج عراق میں رہنی چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور عراق کے صدر جلال طلبانی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ برطانوی فوج عراق میں رہنی چاہیے۔ دونوں رہنماؤں کی جمعرات کو لندن میں ایک ایسے وقت میں ملاقات ہوئی ہے جب برطانیہ میں عراق میں غیر ملکی فوجوں کے قیام کے بارے میں بحث جاری ہے۔ جلال طلبانی نے کہا کہ غیر ملکی فوج کا جلد انخلاء جمہوریت کے لیے تباہ کن اور ’دہشت گردی‘ کی فتح ہوگا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ مغرب کو اعتماد کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ مزاحمت کاروں کو عراقیوں کی آزادی کی خواہش کو دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران پر عراقی مزاحمت کاروں کو اسلحہ کی فراہمی کے الزام کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بلیئر نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی ہمسایہ ملک پر عراق میں مداخلت کا جواز نہیں ہے۔ عراق کے مجوزہ آئین کے مسودہ کی لوگوں میں تقسیم جاری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||