’صدام نے ہلاکتوں کا اعتراف کرلیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ سابق صدر صدام حسین نے اپنے دور میں اپنے مخالفین کے خلاف جرائم کرنے اور انہیں ہلاک کرنے کا اعتراف کرلیا ہے اور وہ موت کے مستحق ہیں۔ مسٹر طالبانی نے عراق کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایک جج سابق صدر سے ’یہ اعتراف کروانے‘ میں کامیاب رہے ہیں۔ مسٹر طالبانی کے مطابق ان مبینہ اعترافات میں لوگوں کو ’ہلاک کرنے‘ جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔ عراق کے صدر نے عراقیہ ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں مزید تفصیلات نہ بتاتے ہوئے یہ کہا کہ یہ اعتراف ان پر عائد موجودہ الزامات سے متعلق ہیں۔ مسٹر طالبانی کا کہنا تھا کہ ’صدام حسین ایک دن میں بیس مرتبہ سزائے موت کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے مجھ پر بیس مرتبہ قاتلانہ حملے کروائے۔‘ مسٹر طالبانی نے ، جو خود ایک سابق کرد باغی رہنما ہیں، کہا کہ صدام حسین کو سزائے موت دینے کی ایک سو وجوہات موجود ہیں۔‘ عراقی حکومت نے پچھلے ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صدام حسین پر اکتوبر کی انیس تاریخ سے مقدمہ چلایا جائے گا۔ صدرام حسین کے کئی سابق ساتھیوں پر بھی ان کے ساتھ بغداد کے شمال میں ایک قصبے میں 143 شیعہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایاجائے گا۔ دجیل کے قصبے میں ان ہلاکتوں کے بعد 1982 میں صدام حسین پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔ اگر صدام حسین پر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔ کچھ حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر دجیل کی ہلاکتوں کے مقدمے میں صدرام حسین کو سزائے موت ہوئی تو ان پر عائد دیگر مقدمات پر کارروائی نہیں کی جائے گی تاکہ ان کی سزا پر عمل کیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||