اکتوبر: صدام کے خلاف مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت اکتوبر کے آخری نصف میں شروع ہوگی۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی پندرہ اکتوبر کو ملک کے آئین کے مسودے پر ریفرنڈم ہوگا۔ عراق کے معزول صدر پر یہ مقدمہ اس الزام میں چلایا جائے گا کہ 1982 میں ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد شمالی بغداد کے علاقے میں ایک سو تینتالیس افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان پر جو مقدمات چلائے جانے والے ہیں ان میں کردوں کے خلاف کیمیائی گیس کے استعمال کا الزام بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے عراقی حکام کہہ چکے ہیں کہ اگرچہ صدام حسین پر پانچ سو مقدمات ہیں لیکن عدالت میں پیش ہونے پر انہیں صرف بارہ الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔ حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے بارہ الزامات مکمل طور پر تیار ہیں اس لیے اس بات میں کوئی حکمت نہیں کہ صدام پر پانچ سو مقدمات کی کارروائی ایک ساتھ شروع کی جائے کیونکہ یہ محض وقت کا ضیاع ہوگا۔ ترجمان نے کہا تھا کہ صدام حسین کے خلاف مقدمات کی سماعت دو ماہ میں شروع ہو جائےگی۔ حکومت کے ترجمان لیتھ کباہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مکمل اعتماد ہے کہ جو بارہ الزامات عدالت کے سامنے لائے جائیں گے وہ صدام حسین کو زیادہ سے زیادہ سزا دلانے کے لیے کافی ہیں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||