آئی اے ای اے کی قرارداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے نےایک قرار داد منظور کی ہے جس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپر د کرنے کو کہا گیا ہے تاہم اس ضمن میں کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ قرار داد تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی جو اس معاملے پر ایران سے مذاکرات بھی کرچکے ہیں۔ یہ فیصلہ ویانا میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ ایجنسی کےایک ترجمان کے مطابق اس قرارداد کے حق میں بائیس ووٹ پڑے جبکہ وینزوئیلا نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ بارہ ارکان نے ووٹ نہیں ڈالا۔ روس اور چین نے ایران کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کی شدید مخالفت کی تھی لیکن جب ووٹ دینے کا وقت آیا تو ان دونوں ممالک نے دیگر دس ملکوں کی طرح ووٹنگ کے عمل میں شرکت نہیں کی۔ بھارت نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ٹیلی فون پرگفتگو کے دوران جوہری معاملات پر لچک دار رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ عالمی امور کے ماہر حسن عسکری رضوی کے مطابق کچھ ممالک ایران کے جوہری پروگرام کے معاملہ کو سلامتی کونسل میں نہیں لے جانا چاہتےاور تاریخ مقرر نہ کرنے کا مطلب اس کو ’مثبت اقدام‘ کرنے کا وقت دینا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق اس قرارداد کے نتائج مغربی ممالک کی ان کوششوں کی فتح ہیں کہ ایران پر جوہری معاملات میں دباؤ بڑھایا جائے۔ امریکہ نے ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگایا ہے جبکہ ایران اپنے اس بیان پر سختی سے قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||