گم گزشتہ یہودی پھر کھو جائیں گے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہودیوں کےطے کردہ ٹائم ٹیبل کےمطابق غزہ اور مغربی اردن کی یہودی آباد کاریو ں کے انخلا میں کچھ ہی دن رہ گئےہیں۔ اس علاقے میں رہنے والے آٹھ ہزار یہودی آبادکار حکومت کے فیصلے کے مطابق اپنے گھروں سے اسرائیل کی طرف چلے جائیں گے۔ ان لوگو ں میں ہندوستان کی شمالی ریاست منی پور سے تعلق رکھنےوالے اندازً دوسوپچاس افراد بھی ہیں جو خود کو بنی میناشی کہتے ہیں۔ اس گروہ کے آباؤاجداد اسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک ہیں جو کھوگئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے یہودی آبادیوں غزہ اور مغربی اردن کیطرف ہجرت کی۔ اس بار پھر انہیں ایک غیر یقینی مستقبل اور بے وطنی کا سامنا ہے۔ اس گروہ میں سے ایک جوشوا بینجمن بھی ہے۔ جنہوں نے دوسرے یہودیوں کی طرح چھوٹی سی ٹوپی اور مخصوص مذہبی پھندونوں سے مزین بیلٹ پہنی ہوئی تھی۔ انہوں نے اسرائیل میں گزاری اپنی زندگی کی مختلف تصاویر دکھائیں۔ ان کا اصل وطن منی پور ہے جو شمال مشرقی بھارت کا ایک علاقہ ہے اور برما کی سرحد سے قریب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اس بات پر یقین ہے ان کا تعلق بنی میناشی گروہ سے ہے انہوں نے کہا کہ اگر ان کا تعلق اس گروہ سے نہ بھی ہو تو بھی ان کا مذہب اب یہودیت ہے۔ وہ دس قبل ہزاروں دوسرے بنی میناشیوں کے ہمراہ اسرائیل آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کے خدوخال میں ایشیائی لوگوں کی جھلک ہے مگر ان کی جڑیں یہودی لوگوں سے پیوست ہیں۔ اس گروہ کے سربراہ یوئل ایین ہیں اور اس گروہ کے افراد مقامی لوگوں کی طرح میزو زبان بولتے ہیں۔ ان میں سے کچھ غزہ جبکہ باقی مغربی اردن کے علاقے میں رہتے ہیں۔ اس علاقے میں مقامی کمیونٹیو ں کی خدمات پر معمور لینیا ہرچھٹک کا کہنا ہے کہ یہ ہجرت بنی میناشی کے لیے بڑی سخت ہوگی۔ ’وہ ایک طویل ہجرت کے بعد یہاں آئے یہاں کے طور طریقے اپنائے۔ یہاں کے لوگوں نے بھی انہیں قبول کیا۔ انہوں نے اس علاقے میں اپنے قدم جمانے کے لیے کئی صبر آزما مراحل طے کیے اب ان پر پھر وہی وقت آن پڑا ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||