’فوج کے انخلاء کی یقین دہانی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقِ وسطی میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہاہے کہ شام نے اقوام متحدہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اگلے ہفتے لبنان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے بارے میں نظام الاوقات فراہم کر دے گا۔ ٹریج رود لارسن نے یہ اعلان شام کے شمال میں شام کے صدر بشار الاسد سے ایک ملاقات کے بعد کیا۔ اس بیان میں ٹریج رود لارسن نے کہا کہ شام کے صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شام سے اپنی تمام فوج اور خفیہ اہلکاروں کو واپس بلا لیں گے۔ اقوام متحدہ نے شام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لبنان سے اپنی چودہ ہزار فوج اور تمام خفیہ اہلکاروں کو فوری طور پر نکل لے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد سے یورپ کے علاوہ عرب ملکوں کی طرف سے بھی شام پر لبنان سے اپنی فوجیں نکالنے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔
لبنان کے حزب اختلاف کی جماعتوں نے رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار شام کو ٹھہرایا تھا جب کے شام اس الزام کی شدت سے تردید کر رہا ہے۔ ٹریج رود لارسن نے شام کے صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو شامی فوج کے انخلاء کے نظام الاوقات سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی طرف سے شام کی فوج کے لبنان سے انخلاء کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار داد پر عملدرآمد کی یقین دہانی حوصلہ افزا ہے۔ انخلاء کے پہلے مرحلے میں مارچ کے آخر تک لبنان میں شام کی فوج اور خفیہ اہلکاروں اور ان کے ساز وسامان کو بقا کی وادی میں جمع کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ اگلے مرحلے میں شام کی تمام فوج، خفیہ اہلکاروں ان کے ساز وسامان اور ہتھیاروں کو لبنان سے نکال لیا جائے گا۔
تاہم دوسرے مرحلے کے لیے تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ دمشق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ صدر بشارالاسد نے بظاہر لبنان سے شام کی فوجوں کے انخلاء کی تمام شرائط پوری کردی ہیں۔ یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا شامی فوجوں کا انخلاء مئی میں لبنان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||