غزہ انخلاء پر ریفرنڈم مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی پارلیمنٹ نے غزہ سے انخلاء کے مخالفین کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے کہ انخلاء پر ریفرنڈم کرایا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ مخالفین کی اس کوشش کا مقصد انخلاء کے منصوبے میں تاخیر پیدا کرنا تھا لیکن ارکان اسمبلی کی اکثریت نے جولائی میں ہونے والے اس انخلاء کی واضح حمایت کر دی۔ اس ووٹنگ کے بعد مقبوضہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء میں حائل ایک اور رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ پارلیمنٹ پہلے ہی 39 کے مقابل 72 ووٹ سے اس انخلاء کی منظورری دے چکی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم شیرون نے پیر کو پیش کی جانے والی تحریک کو انخلاء ٹالنے کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔ انخلاء کے منصوبے کی راہ میں آخری رکاوٹ آئندہ برس کے اسرائیلی بجٹ کی منظوری ہے جس پر رائے شماری منگل کو ہوگی۔ پیر کو انخلاء کے لیے ریفرنڈم کی تحریک کی ناکامی نے ایک بار پھر ایرئیل شیرون کی اس صلاحیت کو ثابت کیا ہے کہ وہ کس طرح اپنے مخالفین کے حربوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور سیاسی قوت کا توازن پارلیمان میں ان کی معمولی اکثریت اور خود ان کی اپنی لیکود پارٹی میں ایک باغی دھڑے کی موجودگی سے قائم ہے۔ یہ باغی اور انخلاء کے مخالفین آخر وقت تک انخلاء کو ٹالنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ان کی ان کوششوں کا محور انتہائی قدامت پرست شاس پارٹی کے گیارہ ارکان اسمبلی ہیں جو انخلاء کے خلاف ہیں۔ اب بجٹ کی منظوری وزیراعظم شیرون کا اگلا امتحان ہوگا کیونکہ اگر وہ بجٹ اکتیس تاریخ تک منظور نہ کرا سکے تو انہیں قبل از وقت انتخابات کرانے ہوں گے۔ جس سے مقبوضہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ جہاں تک اسرائیلی رائے عامہ کا تعلق ہے تو جائزوں کے مطابق ان کی اکثریت انخلاء کی حامی ہے۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل انیس سو سڑسٹھ سے غزہ کی پٹی پر قابض علاقے کو خالی کردے گا اور وہاں سے تمام یہودی آبادکاروں اور ان کی حفاظت پر معمور فوجیوں کو واپس بلالے گا۔ تاہم اسرائیل اس کے بعد بھی غزہ کی بری، بحری اور فضائی حدود پر اپنا کنٹرول باقی رکھے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||