غزہ :حماس،انتخابات کی فاتح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق فلسطینی شدت پسند گروہ حماس نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ حماس نے دو تہائی نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ الفتح تنظیم کے حصے میں بیس فیصد سے بھی کم نشستیں آئی ہیں۔ حماس نے نو کونسلوں میں انتخاب لڑا جِن میں سے اُسے سات میں فتح حاصل ہوئی ہے۔ حماس ہر کونسل میں خاصی بڑی اکثریت سے جیتی ہے۔ روایتی طور پر اقتدار میں رہنے والی یاسر عرفات کی تنظیم الفتح کو اِن انتخابات میں شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ الفتح کے زیرنگرانی کام کرنے والے سرکاری اداروں کی نااہلی اور بدعنوانیوں پر خاصے عرصے سے برہمی کے جذبات پنپتے رہے ہیں۔ لیکن حماس نے بطور ایک منظم اور ایماندار تنظیم کے اپنی ساکھ کو بہتر بنایا ہے۔ غرباء کی بہبود سے متعلق حماس کے وسیع تر منصوبوں کے سبب اُسے بڑے پیمانے پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ مقامی سطح پر ہونے والے ان انتخابات میں غزہ کی نصف کونسلوں پر ہی انتخابات ہوئے ہیں لیکن اِس کے نتائج حماس کی قوت کی غمازی کرتے ہیں۔ حماس کے خودکش بمبار برسوں سے اسرائیلی فوج اور شہریوں کو حملوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ یہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں سخت گیر ترین موقف رکھتی ہے ۔ اس تناظر میں حماس کا کامیابی سے سیاسی افق پر ابھرنا اسرائیل اور امریکہ کو ایک نظر نہیں بھائے گا۔ ایک طرف جہاں امریکہ نہ صرف فلسطینی علاقوں بلکہ پوری عرب دنیا میں جمہوریت کو فروغ دینے کی بات کر رہا ہے وہیں اب حماس یہ موقف اختیار کرے گی کہ اگر امریکہ اپنے عزم میں سنجیدہ ہے تو اُسے لوگوں کی آواز پر کان دھرنے ہوں گے اور کم از کم غزہ میں ہونے والے انتخابات میں لوگوں نے حماس ہی کا نام لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||