حماس کا نیا رخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس برسوں سے عرب اسرائیل تنازعے میں ایک فریق کے طور پر موجود ہے۔ حماس کے خود کش حملہ آور متعدد بار اسرائیلیوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ لیکن اب ایک متوقع جنگ بندی کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے اور ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اپنی لڑائی کا رخ ایک مختلف سمت میں موڑ رہی ہے۔ شمالی غزہ میں منعقدہ ایک ریلی میں فلسطینیوں نے حماس کے نوجوان کارکنوں کی پریڈ کا خیر مقدم کیا۔یہ کارکنان فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کے چہروں پر کیموفلاج رنگ لگا ہوا تھا اور یہ حماس کی ایک مخصوص ریلی تھی مگر اس کا مقصد جمہویت میں شمولیت کے لیے حماس کے ارادوں کا اظہار تھا۔ حماس پہلی بار مقامی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور یہ ریلی شمالی غزہ میں اس کی انتخابی مہم کا نقطہ عروج تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حماس پارلیمانی انتخابات میں بھی اپنے امیدوار کھڑے کرے۔ حماس آہستہ آہستہ انتخابی سیاست کے دھارے میں داخل ہو رہی ہے اور بندوق کی طاقت آ زمانے کے بعد اب وہ ووٹ کی طاقت آزمانا چاہتی ہے۔ اسرائیل حماس کو اپنے خطرناک ترین دشمنوں میں گردانتا ہے لیکن غزہ میں لوگ اسرائیل کے خلاف حماس کی کارروائیوں کو بہادری کے کارناموں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور حماس جانتی ہے کہ اس کی یہ ساکھ لوگوں کو اسے ووٹ دینے پر مجبور کر دے گی۔ حماس کے ایک رہنما کا کہنا ہے ’ حماس عوام کی حمایت کے بل بوتے پر مقامی انتخابات میں حصہ لے گی کیونکہ اس تنظیم نے فلسطینی عوام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔لیکن حماس کے سیاست میں داخل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے مزاحمت ختم کر دی ہے۔ مزاحمت اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک جاری رہے گی‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ فلسطینی عوام مقامی کونسلوں میں حماس کی شرکت کے متمنی ہیں‘۔ ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ حماس کی حمایت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||