حماس کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی علاقوں میں انتہا پسندی کی علامت سمجھی جانے والی یہ تنظیم پہلی انتفادہ تحریک کے ساتھ ہی وجود میں آئی- حماس اوسلو امن معاہدے کی مخالف ہے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔ تنظیم کا قلیل المعیاد مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا مکمل انخلاء ہے جبکہ طویل المعیاد ہدف ایک ایسی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو ان علاقوں پر مشتمل ہو جن کا بیشتر حصہ سن اڑتالیس میں یہودی ریاست کے قیام کے بعد سے اسرائیل کا حصہ ہے۔ تنظیم کے بانی شیخ احمد یاسین مرتے دم تک حماس کے روحانی قائد بھی رہے۔ انہیں اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے حکم پر فوج نے بائیس مارچ سن دو ہزار چار کو ایک فضائی حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔
تاہم حماس کے فوجی رہنما برسوں سے امّان میں مقیم رہے ہیں جہاں انہیں اردن کے مرحوم شاہ حسین کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ ان کے جانشین اور بیٹے عبداللہ دوم نے گروپ کے صدر دفاتر بند کر کے حماس کی کئی اعلیٰ شخصیات کو جبراً قطر بھیج دیا ہے۔ حماس کے دو دھڑے ہیں جو بالکل مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ ایک مذہبی اور سماجی خدمات انجام دیتا ہے اور غرب اردن اور غزہ میں اسکول اور اسپتال تعمیر کرواتا ہے جبکہ دوسرا دھڑہ جو عزالدین القسام بریگیڈ کہلاتا ہے، اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں کئی خونی حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ یاسر عرفات کی حکومت حماس کو اپنا مدِمقابل سمجھتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو قومی سیاست کے دھارے میں شامل کرنے پر مجبور ہے۔ تاہم یاسر عرفات یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ حماس ان کی حکومت کو واحد بااختیار ادارے کے طور پر تسلیم کرے اور اسرائیل کے خلاف فوجی کاروائیاں بند کر دے۔ حماس یہ مطالبات ماننے سے تو انکار کرتی ہے لیکن قومی یکجہتی کے نام پر یاسر عرفات کے خلاف لڑنے سے بھی گریز کرتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، خاص طور پر غزہ میں جہاں کی معاشی حالت غرب اردن سے زیادہ مخدوش ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||