انتخابات میں حماس کےامیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی کے کئی شہروں میں میئر اور میونسپل کونسل کے اراکین کے انتخاب کے لئے جمعرات کو ووٹنگ ہورہی ہے جس میں شدت پسند تنظیم حماس کے کارکن بھی امیدوار ہیں۔ گزشتہ ماہ غرب اردن میں بھی مقامی انتخابات ہوئے تھے جن میں حماس کے امیدوار کامیاب رہے تھے۔ امید کی جارہی ہے کہ غزہ میں بھی حماس کے امیدوار مقبول رہیں گے۔ ماضی میں بھی حماس کے کارکن انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ حماس انتخابات کے ذریعے یونیورسٹیوں اور دیگر فلسطینی اداروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ حماس حکومت کے انتظامی امور پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے انتخابی سیاست میں حصہ لے رہی ہے۔ میونسپل الیکشن میں کامیابی کے بعد امید کی جارہی ہے کہ حماس کے امیدوار فلسطینی پارلیمنٹ کے انتخاب میں بھی حصہ لیں گے۔ حماس کے خودکش بمبار کئی سال سے اسرائیلیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں اور حماس کا اب بھی کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی تباہی میں یقین کرتی ہے۔ اسرائیل حماس کو اپنے سب سے بڑے دہشت گرد دشمنوں میں تصور کرتا ہے جبکہ فلسطینیوں کی نظر میں حماس نے اسرائیل کے قبضے کے خلاف ایک شاندار مہم چلائی ہے۔ اور حماس کی یہی تصور ووٹ حاصل کرنے کی وجہ ہوگی۔ اس کے علاوہ حماس کو اسلامی اقدار کی پیروکار اور اس کے رہنماؤں کو کافی ایماندار سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ فلسطینی انتظامیہ کے اہلکاروں کو فلسطینی عوام کرپشن میں ملوث سمجھتے ہیں۔ دریں اثناء اسرائیلی سرحد سے منسلک مرکزی اور جنوبی غزہ میں فلسطینی پولیس کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ یہ تعیناتی منگل کے روز اسرائیلی حکام اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پائی تھی۔ گزشتہ ہفتے فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے کے لئے شمالی غزہ میں بھی سرحد کے ساتھ فلسطینی پولیس کے سینکڑوں اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||