پہلے مرحلے کا انخلاء مکمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام نے لبنان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جس میں لبنان میں تعینات تمام فوج کو بقا وادی تک واپس بلالیا گیا ہے۔ لبنان کے حکام نے شام کی فوج کی بقا وادی تک واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔ بقا وادی تک واپس جانے والی فوج میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ شام نے لبنان سے اپنی فوج کو نکالنے کا فیصلہ شدید بین الاقوامی دباؤ کے تحت کیا تھا۔ بیروت میں حزب اختلاف نے لبنان سے شامی فوج کے انخلاء کےلیے مظاہرے کیے تھے۔ لبنان کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ شامی فوج کا کچھ سامان رہ گیا ہے لیکن لوگ چاہتے ہیں کہ شامی فوج اپنا سب کچھ لبنان سے نکال لے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے لبنان کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ بقا وادی میں بھی آٹھ سے دس ہزار شامی فوج رہ گئی ہے اور باقی شام واپس چلی گئی ہے۔ شامی فوج کے زیادہ تر ٹھکانے لبنان کے شمال یا بیروت اور اس کے گردونواح میں واقع تھے۔ عینی شاہدوں کے مطابق شام کے خفیہ ادارے کے استعمال میں لبنان کے شمالی شہر ترپولی میں واقع دو مراکز کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔ شامی فوج کا انخلاء اقوام متحدہ کی قرارداد پندرہ سو انسٹھ پر عمل درآمد کی طرف ایک قدم ہے جس میں لبنان سے شامی فوج کے انخلاء اور لبنان میں موجود مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم لبنان میں شیعہ مسلمانوں کی مسلح تنظیم حزب اللہ کے رہنماوں نے امریکہ کی طرف سے اس تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہم مزاحمت کے ہتھیاروں کو نہیں چھوڑیں گے کیوں کے اسرائیلی جارحیت سے کے خلاف مسلح جدوجہد سب سے زیادہ موثر طریقہ ہے۔ امریکہ لبنان میں مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے تمام شامی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شامی فوج کے دوسرے مرحلے کے انخلاء کی تاریخوں کا تعین لبنان اور شامی دفاعی حکام کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں اپریل کے شروع میں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||