عمر کرامی دوبارہ وزیر اعظم بن گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کےصدر نےعمر کرامی کو اپنے عہدے سے استعفی دینے کے دس دن بعد پھر وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمر کرامی نے جو شام کے حمایتی سھمجے جاتے ہیں، نو دن پہلے حزب مخالف کے مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ لبنان کی پارلیمنٹ نے عمر کرامی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کی تجویز منظور کر لی تھی جس کے بعد صدر عمائل لاہود نے عمر کرامی کو اپنی نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی ہے۔ لبنان کی حزب مخالف نے کہا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل میں ان کے مشورہ کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن حزب مخالف نے عمر کرامی کی دوبارہ نامزدگی پر کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ادھر لبنان سے شامی فوجی کی لبنان کے سرحدی علاقوں میں منتقلی جاری ہے۔ لبنان میں گزشتہ تیس سال سے شام کی فوج موجود ہے۔ لبنان میں سیاسی تبدیلی اس وقت شروع ہوا جب چودہ فروری کو سابق وزیر اعظم رفیق حریری بم میں ہلاک ہو گئے تھے۔ عمر کرامی اور شام کی حکومت پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ انہوں نے رفیق حریری کو قتل کرایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||