شام اور مصر کے صدور کی ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے صدر حسنی مبارک شام کے صدر بشر الاسد سے دمشق میں ایک پہاڑی پر واقع محل میں مذاکرات کررہے ہیں جہاں سے پورے دارالحکومت کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ صدرور کی یہ ملاقات لبنان میں شامی افواج کی موجودگی کے خلاف بیروت میں ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کے ایک دن بعد ہورہی ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں آٹھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ دمشق نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ لبنان سے چودہ ہزار افراد پر مشتمل شامی فوج اور خفیہ اہلکاروں کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل دے گا۔ ایک نامعلوم سفارتکار نے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ’بات چیت میں لبنان کے معاملے پر زور رہے گا۔ اس کے علاوہ دوسرے علاقائی معاملات پر بھی بات چیت ہوگی جن میں عراق جنگ اور مشرق وسطٰی میں امن جیسے مسائل شامل ہیں‘ حسنی مبارک اس بات کا کھلے عام اظہار کر چکے ہیں کہ وہ لبنان سے شام کےانخلاء کے حق میں ہیں۔ شام نے انخلاء کے پہلے مرحلے میں اپنی افواج کو مشرقی لبنان میں وادی بکا تک پیچھے ہٹا لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق فوجی خفیہ ادارے کے افسران نے اپنے دو دفاتر ملک کے شمال میں ابھی تک کھلے رکھے ہیں۔ ان میں سے ایک کورا کے علاقے میں امیون نامی قصبے میں جب کے دوسرا ساحلی علاقے میں ڈیئر امار کے علاقے میں واقع ہے۔ پیر کو بیروت میں ہونے والا مظاہرہ لبنان کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ بتایا جا رہا ہے۔ یہ مظاہرہ شام کے حق میں حزب اللہ تحریک کی جانب سے ہونے والے مظاہرے سے بھی بڑا تھا۔ بیروت میں یہ احتجاجی مظاہرہ سابق وزیراعظم رفیق حریری کے ایک بم حملے میں ہلاک ہونے کے ایک ماہ بعد کیا گیا ہے۔ لبنان میں حزب اختلاف کے متعدد حامیوں نے رفیق ہریری کی ہلاکت کا الزام شام یا شام نواز لبنانی رہنماؤں پر لگایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||