شام میں اسلام پسندوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ماہ دمشق میں سفارتکاروں کے علاقے میں ہونے والے ایک غیر عمومی حملے کے باعث شام میں مسلم بنیاد پرستوں میں اضافے کا معاملہ مزید اجاگر ہوا ہے۔ اگرچہ حملہ آوروں کی حتمی شناخت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے البتہ حکام نے اسلام پسندوں کو فوری طور پر اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ شام میں سیکولر بعث پارٹی قیادت میں ہے اور ملک میں اسلام پسندوں کو طویل عرصے سے دبا کر رکھا گیا ہے۔ شامی حکومت نے انیس سو اسی کے عشرے میں مسلم بغاوت کو کچل ڈالا تھا جس کے نتیجے میں دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عالمی ٹی وی چینلوں پر عراق پر قبضے اور فلسطین میں جاری تشدد کی زیادہ سے زیادہ تصاویر دکھائی جانے کے باعث عرب دنیا میں غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلام کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ شام جیسے سیکولر ملک میں مذہب کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شام میں مسجد جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ خواتین حجاب اوڑھ رہی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ خواتین کے مذہبی مباحثوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہابیت کو فروغ مل رہا ہے اور مذہبی رہنما فلسطین اور عراق میں جہاد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||