حملہ کے بعد شام میں ہائی الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے دارالحکومت دمشق میں مسلح جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سکیورٹی افواج کو ہائی الرٹ پر کردیا گیا ہے۔ دمشق عموماً ایک پر امن شہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل منگل کی رات دمشق میں کیے گئے دھماکوں میں دو حملہ آوروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ دھماکے شہر میں ایرانی و کینیڈین سفارت خانوں اور برطانوی سفیر کی رہائش گاہ کے قریب واقع شاہراہ پر ہوئے تھے۔ پولیس نے اب اس علاقے میں عام داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو مشتبہ حملہ آور، سکیورٹی دستوں کا ایک اہلکار اور ایک راہگیر عورت شامل ہے۔ شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پورے خطے میں پائے جانے والے عدم استحکام اور بے چینی کا حصہ ہے۔ ملک کے سرکاری اخبار البعث کے مطابق کشیدہ خطے میں سو فیصد سکیورٹی قائم کرنا ناممکن ہے۔ اخبار میں فلسطین اسرائیل تنازعہ اور عراق کی صورتحال کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مغربی حصے میں منگل کی سہ پہر چار بجے کے قریب تین سے پانچ دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ دمشق میں اقوام متحدہ کی عمارت حملے کے نتیجے میں جل گئی تاہم اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت عملے کا کوئی بھی فرد عمارت میں موجود نہیں تھا۔ کینیڈا اور برطانیہ کے حکام نے کہا ہے کہ ان کے سفارتخانے اور عملہ خیریت سے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کا ذمہ دار کون ہے ۔ حفاظتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے دراصل ایک کار بم حملے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ شام کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق نقاب پوش دہشت گردوں کے ایک گروپ نے اچانک ایک گاڑی سے نکل کر اقوام متحدہ کی عمارت پر اندھا دھند راکٹ داغنا شروع کر دئیے۔ بعد میں ان مبینہ دہشت گردوں کا سکیورٹی دستوں کے ساتھ تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں دو مبینہ دہشت گرد اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا۔ ایک راہگیر عورت بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئی۔ بی بی سی کی نامہ نگار کم غتاس نے بیروت سے بتایا ہے کہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل نشانہ کون تھا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ اب بند ہو گئی ہے اور پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||