| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
معاملہ اقوام متحدہ میں لے جائیں گے: شام
شام نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ہونے والے اسرائیلی حملے کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے حیفہ میں سنیچر کے روز ہونے والے خود کش حملے کے جواب میں شام میں شدت پسند فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کے ایک مبینہ تربیتی مرکز پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حیفہ میں ہونے والے اس خود کش حملے میں خاتون حملہ آور سمیت انیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلامی جہاد نے شام میں اپنے تربیتی کیمپوں کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔ شام کے سفارتی ذرائع کے مطابق ان کا ملک اسرائیلی حملوں پر بحث کی غرض سےاقوام متحدہ سے ایک خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ اسرائیل کی اس تازہ کارروائی پر اقوام عالم نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مصر کے صدر حسنی مبارک اور جرمنی کے صدر گرہارڈ شروڈر نے مشترکہ طور پر شام کے علاقے میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی۔ گرہارڈ شروڈر نے کہا کہ اسرائیل کا یہ قدم قطعی ”قابل قبول” نہیں۔
اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسنی مبارک نے کہا: ’اپنے ہمسایہ ملک شام میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیلیوں کو قطعی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمارے ہمسایہ ملک پر صرف اس خیال سے حملہ کرے کہ وہاں بعض تنظیموں نے پناہ لےے رکھی ہے۔‘ گرہارڈ شروڈر نے کہا کہ صورت حال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب ایک ملک کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی اس کارروائی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے برطانوی حکومت نے کہا کہ ’بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کو اپنی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔‘ لیکن برطانوی حکومت کے اسی ترجمان نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا کہ آیا اسرائیلی حکومت کی یہ تازہ کارروائی بھی بین الاقوامی قوانیں کے تحت جائز تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||