BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شام کو امریکہ کی تنبیہ
جنرل رچرڈ مائرز
جنرل رچرڈ مائرز
پینٹاگون نے شام کے راستے غیرملکی جنگجوؤں کے عراق میں داخل ہونے کے خطرات سے شامی حکومت کو خبردار کیا ہے۔

یہ تنبیہ شام اور عراق کی سرحد کے قریب ہونے والی شدید لڑائی کے بعد کی گئی ہے۔

دوسری طرف امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدر بش کے مدِمقابل صدارتی امیدوار جان کیری نے عراقی صورت حال سے متعلق صدر بش کے طریق کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بش انتظامیہ کی طرف سے جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف جنرل رچرڈ مائرز نے شام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ بہت سے غیر ملکی شام کے راستے عراق میں داخل ہو رہے ہیں۔ ’یہ ایک حقیقت ہے اور ہم اس سے آگاہ ہیں۔ شام کو بھی اس کا علم ہے۔ شام کو یہ معاملہ نہایت سنجیدگی سے لینا چاہئے کیونکہ شام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

جنرل مائر غالباً یہ عندیہ دینا چاہتے ہیں کہ غیر ملکی جنگجوؤں کی طرف سے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے باعث شام کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ان کا اشارہ اس طرف نہیں تھا کہ امریکہ شام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی تناظر میں صدر بش کو اپنے مخالفوں کی طرف سے کی جانے والی سخت تنقید کا بھی مقابلہ کرنا ہو گا کیونکہ ان کے مخالف صدارتی امیدوار جان کیری عراقی صورتحال کی بنیاد پر لوگوں کو کھلے عام مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ نومبر میں صدر بش کو ووٹ نہ دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد