| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام پر امریکی پابندیوں کا خطرہ
دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں ناکامی پر صدر بش نے شام پر معاشی اور سفارتی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے امریکی آئینی بل میں شام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت ترک کر دے اور لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے۔ نئے بل کے تحت ہونے والی ممکنہ کارروائیوں میں شام کو امریکی برآمدات کا خاتمہ اور امریکہ میں اس اثاثوں کا انجماد شامل ہو سکتی ہیں۔ صدر بش نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے خیال میں نئے بل پر عمل درآمد امریکی خارجہ پالیسی پر لازم نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی طرف سے اس بل کی منظوری کا ہر چند یہ مطلب نہیں ہے کہ اس میں بیان کئے گئے متعدد اقدامات میری خارجہ پالیسی کا حصہ بن گئے ہیں۔ بل میں شام سے کئی اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے اور ان کے نہ کرنے کی صورت میں صدر سے شام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ صدر بش پر یہ لازم ہوگا کہ وہ شام کو دوہرے استعمال کی اشیاء کی برآمد کو روکیں۔ امریکی کی طرف سے کئے جانے والے چھ ممکنہ تادیبی اقدامات میں شام کے طیاروں کو امریکہ کی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی اور دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط کا خاتمہ شامل ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق شام کے خلاف پابندیوں کا معاشی سے زیادہ سیاسی اثر ہوگا کیونکہ شام کو امریکی برآمدات صرف تین سو ملین ڈالر ہیں۔ شام اگرچہ شمالی کوریا، سوڈان، کیوبا، ایران اور لیبیا کے ساتھ امریکی وزارت خارجہ کی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جو مبینہ طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں لیکن شام ہی ایسا ملک ہے جس کے ساتھ امریکی کے مکمل سفارتی روابط ہیں۔ بش انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ شام نے حالیہ دنوں میں امریکہ مخالف عناصر کو عراق میں جانے سے ورکنے میں کامیاب کارروائی کی ہے۔ شام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کی بھی حمایت کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||