BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 20:49 GMT 01:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دمشق: حملہ آوروں سمیت چار ہلاک
شام کا دارلحکومت دمشق
دھماکوں کا نشانہ درحقیقت کون تھا، یقین سے نہیں کہا جا سکتا
شام کے دارالحکومت دمشق میں دھماکوں میں دو حملہ آوروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام کی وزارت خارجہ کہ مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی دستوں کا ایک اہلکار اور ایک راہگیر عورت بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مغربی حصے میں سہ پہر چار بجے کے وقت تین سے پانچ دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ دھماکے شہر میں ایرانی و کینڈین سفارت خانوں اور برطانوی سفیر کی رہائش گاہ کے قریب واقع شاہراہ پر ہوئے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق دمشق میں اقوام متحدہ کی عمارت کو آگ لگی ہوئی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت عملے کا کوئی بھی فرد عمارت میں موجود نہیں تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کا ذمہ دار کون ہے۔

حفاظتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے دراصل ایک کار بم حملے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔

شام کی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق نقاب پوش دہشت گردوں کے ایک گروپ نے اچانک ایک گاڑی سے نکل کر اقوام متحدہ کی عمارت پر اندھا دھند راکٹ داغنا شروع کر دئیے۔

بعد میں ان مبینہ دہشت گردوں کا سکیورٹی دستوں کے ساتھ تصادم ہوگیا جس کے نیجے میں دو مبینہ دہشت گرد اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا۔ ایک راہگیر عورت بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئی۔

بی بی سی کی نامہ نگار کم غتاس نے بیروت سے بتایا ہے کہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل نشانہ کون تھا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ اب بند ہو گئی ہے اور پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔

برطانیہ کے دفترِخارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہر میں دھماکے اور فائرنگ ہوئی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حادثے ایرانی سفارت خانے کی طرف جانے والی سڑک کے نزدیک ہوئے ہیں جو کہ برطانوی سفیر کے رہائش گاہ سے نزدیک ہے۔ تاہم برطانوی عملے کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

پچھلے سال شام میں سکیورٹی کے عملے کو انتہائی چوکنا رہنے کی ہدایات دی گئی تھی اور ان تمام کاروں کی تلاشی لینے کی بھی ہدایات دی گئیں تھیں جن میں دھماکہ خیز مواد موجود ہونے کا امکان تھا۔

پچھلے مہینے اردن میں حفاظتی عملے نے القاعدہ کی طرف سے کی جانے والی ایک تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد خفیہ طریقے سے شام کے ذریعے اردن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد