شامی فوج کی لبنان سے واپسی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام فوج کے دستے لبنان کے سرحدی علاقے بقاع کی طرف روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں لیکن امریکہ کے مطابق شام کا لبنان کے سرحدی علاقے میں اپنی فوج کو منتقل کرنا کافی نہیں اور وہ اپنی فوج کو اپنے ملک میں واپس بلائے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ شام کے لبنان سے اپنی فوجوں کی سرحدی علاقے میں منتقلی آدھا قدم ہے اور وہ اپنی فوجوں کی مکمل اور فوراً شام واپس اپنے ملک منتقل کرئے۔ عربی ٹی وی چینل کے مطابق شامی فوج کا لبنان سے انخلاء شروع ہو گیا ہے اور شامی فوج کا نو سو گاڑیوں کا قافلہ وادی بقاع کی طرف جاتا دیکھا گیا ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ نے شام کے حق میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلین نے شام کو کہا کہ وہ لبنان سے ’فوجی اور انٹیلیجنس فورسز کو مکمل اور جلد واپس بلا لے‘۔ ان کا بیان اس وقت آیا ہے جب شام اور لبنان کے صدور نے اعلان کیا ہے کہ لبنان سے شامی افواج کا انخلاء اور وادی بقاع میں تعیناتی کا عمل اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ شامی صدر بشار الاسد اور لبنان کے صدر عمائیل لاہود نے اس بات کا اعلان دمشق میں مذاکرات کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج کو لبنان کے مشرق میں وادی بقاع میں تعینات کیا جائےگا اور شام اور لبنان کی افواج کے سربراہان ایک ماہ کے اندر یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ افواج کتنا عرصہ وہاں ٹھہریں گی۔ اس عرصے کے بعد شامی فوج کے مکمل انخلاء پر بات چیت ہوگی۔ دمشق سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ شامی افواج لبنان سے مکمل طور پر چلی جائیں گی۔ یاد رہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک لبنان سے شامی فوج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||