’ فوج کی واپسی فوری نہیں بتدریج‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بشرالاسد نے کہا کہ وہ اپنی فوج کو لبنان کے سرحدی علاقے بیکا ویلی تک لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ بشر الاسد نے کہا کہ شامی فوج کی لبنان سے واپسی بتدریج ہو گی ۔ انہوں نے امریکی صدر جارج بش کے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا جس میں شام سے کہا گیا تھا کہ اپنی فوج کو شام سے فوری طور پر واپس بلا لے۔ صدر بشر الاسد نے کہا کہ اگر لبنان کے لوگوں میں اس بات پر اتفاق ہو کہ شامی فوج کا لبنان میں نہیں ہونا چاہیے تو ان کی فوج ایک دن بھی وہاں نہیں رہے گی۔ بشر الاسد نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے لبنان کے ساتھ تعلقات کو تاریخی پس منظر میں دیکھنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شام نے لبنان کے لیے ماضی میں خون دیا ہے اور مستقبل میں اس گریز نہیں کریں گے۔ شام کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران شام کے صدر نے کہا کہ اگر لبنانی حکومت کی یہ منشا ہے کہ لبنان سے شامی فوج کو چلے جانا چاہیے تو وہ جزوی واپسی کے لیے تیار ہے۔ بشرالاسد نے کہا کہ اپنی فوج کولبنان کےسرحدی علاقے بیکا ویلی تک واپس لے جانے کے لیے تیار ہیں جہاں سے وہ بتدریج اپنے بارڈ پر منتقل ہو جائیں گے۔ بشر الاسد کی تقریر سے پہلے امریکی صدر جارج بش نے شام سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان سے اپنی فوج واپس بلا لے تاکہ وہاں آزاد اور شفاف انتخابات ممکن ہو سکیں۔ شام کے صدر نے اپنے تقریر میں اپنے ملک کی عراق کے بارے میں خارجہ پالیسی کا دفاع کیا۔ امریکی صدر بش نے کہا کہ شام نے لبنان کی سرزمین پر تین عشروں سے قبضہ جما رکھا ہے۔ لبنانی فوجی اس فوجی پوزیشن کے پاس چلے گئے ہیں جہاں شام کی فوج کا انٹیلیجنس مرکز ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ لبنانی فوجیوں نے شامی انٹیلیجنس کا انتخاب کیوں کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||