BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 February, 2005, 22:35 GMT 03:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: شامی فوجی دستوں کی واپسی
لبنان سے شامی فوجوں کی واپسی کے لیے مظاہرہ
لبنان سے فوجوں کی واپسی کا مطالبہ خود شام کے اندر بھی کیا جا رہا تھا
لبنان کے وزیر دفاع عبدالرحیم مراد نے کہا ہے کہ شام لبنان میں متعین اپنی کچھ افواج کو واپس بلا رہا ہے۔

لیکن لبنان کے وزیر اعظم عمر کریمی نے اس اقدام کو لبنان کے عدم استحکام سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر شامی فوج لبنان سے چلی جاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ ایسے حالات میں جو چیز نہایت واضع ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں عدم استحکام پیدا ہونے کا امکان ہے‘۔

وزیر دفاع رحیم مراد نے کہا کہ یہ فوجی دستے اب مشرقی وادئی بیکا میں متعین کیے جائیں گے جہاں شام کچھ افواج پہلے ہی موجود ہیں۔

یہ اعلان شام کے اس اعلان کے بعد کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے تعاون کرتے ہوئے اس کی اس قرارداد پر عمل کرے گا جس کے تحت لبنان سے غیر ملکی افواج کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران شام پر لبنان سے اپنے پندرہ ہزار فوجیوں کی واپسی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔

شامی فوجی لبنان میں 1990 کی خانہ جنگی کے بعد سے موجود ہیں اور بی بی سی کی اولا گیرن نے بتایا ہے کہ شام عالمی دباؤ کو فوری طور پر ٹالنے کے لیے اپنے دستے لبنان کے ان مقامات سے ہٹا لے گا جہاں وہ اب ہیں لیکن سرحد سے بہت دور ہونے کے مطالبے کی مزاحمت کرے گا۔

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے شام کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ لبنان سے امریکی سفارت کار کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

سفارت کار مارگریٹ سکوبی کو دمشق سے واپس بلا لیا گیا تھا لیکن انہیں واپسی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی تھی۔

امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے اس کے بعد شام کو خبر دار کیا تھا کہ وہ بقول ان کے لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ یہ انتباہ دمشق سے امریکی سفیر کو واشنگٹن بلائے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے جن کو بیروت میں سابق لبنانی وزیر اعظم رفيق الحريري کے قتل کے نتیجے میں واپس بلایا گیا تھا۔

بیروت میں حزب اختلاف نے بھی حکومت کے ساتھ شام کو حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔حزب اختلاف نے بیروت سے شامی فوجوں کی واپسی کے اُس مطالبا کیا تھا۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنے بقیہ چودہ ہزار فوجی واپس بلائے۔ متفقہ طور پر منظور کی جانے والی جانے والی قرار داد میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ شام لبنان کی علاقائی سالمیت، خود مختاری اور سیاسی آزادی کا احترام کرے۔

اس سے پہلے شام کے جن دستوں کو ہٹایا گیا تھا وہ بیروت کے جنوب مشرق میں وادئی بیکا میں متعین کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد