شام عراق سرحدی کنٹرول پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے نائب وزیراعظم برہام صالح نے کہا ہے کہ غیر ملکی باغیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے شام اور عراق کے درمیاں صحرائی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں باہمی تعاون کے معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ برہام صالح نے یہ بیان دمشق میں صدر بشر الاسد سے ملاقات کے بعد دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشر الاسد نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ شام اس بات کی کوششش کرے گے کہ عراق میں کسی طرح کی دراندازی نہ ہو اور سکیورٹی کے خصوصی دستے سرحد کے دونوں جانب چوکنا رہیں گے۔ عراق کے وزیر خارجہ ہشیار زباری نے عراق میں باغیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے کی جانے والے کوشش کو جہدِ مسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی طرف سے سکیورٹی اقدامات اور خفیہ معلومات میں اشتراک سے ہی اس مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت ایک اہم کامیابی ہے لیکن اس کے باوجود سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ایک مشکل کام ہوگا۔ ادھر عراق میں نئی عبوری حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے تیسرا ہفتہ ہے اور وہ ملکی سکیورٹی اور اس کی تعمیر نو کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو مزید فروغ دے رہی ہے۔ غیر ملکی باغیوں کے عراق میں داخلےکو روکنے کے لیے شام کے ساتھ ہونے والی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر خارجہ ہشیار زباری نیٹو اور یورپی اتحاد سے مذاکرات کے لیے برسلز جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سرحدوں پر سخت کنٹرول نافذ کرنے کے لیے نیٹو کی مدد طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عراقی عوام کے لیے یورپی اتحاد سے مالی امداد بھی طلب کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||