 |  ہسپتالوں کو طبی آلات میں کمی کا بھی سامنا ہے |
عراق کی نئی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو فوری طور پر مطلوب ادویات کے لیے فنڈز دے۔ عراقی وزیر صحت نے بتایا کہ ملک کے تباہ حال اور انتہائی بوجھ تلے دبے نظام صحت کو بحال کرنے کے لیے صحت کے ایک ارب ڈالر کے بجٹ کو دگنا کرنا ہوگا۔ عراقی ڈاکٹر اپنی مہارت اور صلاحیتوں کے لیے تو مشہور ہیں لیکن ان کو ادویات کی انتہائی کمی کا بھی سامنا ہے۔ وزیرصحت کے مطابق خاص طور پر اینٹی بایوٹک ادویات اور دل کے امراض اور سرطان کے علاج کے لیے دواؤں کی قلت ہے۔
 |  عراقی ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں |
طبی آلات اور دواؤں کی قلت معزول صدر صدام حسین کے زمانے سے ہی ہے جب اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غفلت اور کرپشن کی وجہ بےشمار جانیں ضائع ہوئیں۔ لیکن صدام حکومت کے خاتمے کے پندرہ ماہ بعد بھی عراق کا نظام صحت بحالی کے مقام سے بہت دور ہے اور لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اب اس کی کیا وجہ ہے۔ اتحادیوں پر جو بھی تنقید ہو، اب صحت کے اس طرح کے مسائل نئی عبوری عراقی حکومت کا درد سر ہیں۔ وزیرصحت بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کرپشن اب بھی باقی ہے اور مریضوں کے لیے خریدی گئی بہت سی دوائیں بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک برس میں ہسپتال بھی مریضوں کی بہت بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں اور تشدد کے نتیجے میں ان مریضوں کی تعداد مزید بڑھی ہے۔ اسی وجہ سے وزیرصحت کو ہنگامی عالمی امداد کی اپیل کرنا پڑی ہے۔ |