’خانہ جنگی سے سب متاثر ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے شاہ عبداللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر عراق میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو خطے کے دوسرے ممالک بھی اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر سخت تشویش ہے کہ ہزاروں لوگ ہر روز عراق میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عراق کی عبوری حکومت سے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں عراق میں بدامنی کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرئے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل بدامنی سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اگر خانہ جنگی کا شکار ہوا تو پھر پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوجائے گا۔ عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہشیار زیباری نے کہا ہے کہ عراقی حکام متعدد مرتبہ ہمسایہ ملکوں سے یہ بات کہ چکے ہیں کہ وہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اپنی سرحدوں پر حفاظتی انتظامات کو سخت کریں۔ ہشیار زیباری نے کہا کہ گو کہ تمام ہمسایہ ملکوں سے ہی اس قسم کی شکایت سامنے آئی ہیں لیکن ایران اور شام کے ساتھ معاملہ بہت سنگین ہے۔ ہشیار زیباری نے کہا کہ وہ کسی حکومت پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے کا الزام نہیں لگا رہے۔ تاہم امریکہ شام پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے اور اس نے دمشق کے ساتھ اپنی تمام تر تجارت احتجاج کے طور پر معطل کر دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||