عراق: ہنگامی حالت کا قانون نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے بدھ کو ایک ایسے قانون پر دستخط کر دئیے ہیں جس کے تحت حکومت ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر سکے گی۔ نئے قانون کے تحت عبوری حکومت جہاں اور جب چاہے گی ہنگامی حالت نافذ کر سکے گی۔ البتہ اس نئے قانون کے تحت ملک میں ہنگامی حالت غیر معینہ وقت کے لیے نافذ نہیں کی جاسکتی اور اس عبوری انتظامیہ صرف مخصوص مدت کے لیے ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم ایاد علاوی نے قانون کے بارے میں کہا ’ ہمیں جب اور جہاں ضرورت پڑے گی ہم وہاں ہنگامی حالت نافذ کریں گے‘۔ البتہ جب عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی اس قانون پر دستخط کرنے والے تھے تو اس وقت شدت پسندوں نے بغداد کے مرکزی علاقے میں چھ مارٹر شیل فائر کیے جو وزیر اعظم کی سیاسی جماعت کے دفاتر کے نزدیک گرئے جس سے کم از کم چھ افراد رخمی ہو گئے۔ عراق کی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے کہا ہے کہ قانون بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق پر غیر ضروری زد نہ پڑے ۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ہولی کا کہنا ہے کہ عراقی عوام اس بات کے حق میں ہیں کہ ملک میں امن عامہ کے لیے سخت قانون بنایا جائے۔ عراق کے عبوری صدر شیخ غازی الیاور پہلے ہی اس قانون پر دستخط کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||