عراقی وزیر اعظم کا پارٹی دفتر تباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اقتدار کی منتقلی سے چند دن پہلے تشدد کی لہر جاری ہے اور ہفتے کے دن تشدد کے مختلف واقعات میں ایک امریکی فوجی سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شدت پسندوں نے ہفتے کو سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے وزیر اعظم ایاد علاوی کے پارٹی دفتر پر حملے سے پہلے ایک اور سیاسی جماعت کے دفتر پر گرنیڈوں سے حملہ کیا جس میں تین شخص ہلاک ہو گئے۔ بی بی نامہ نگار جوناتھن مارکوس کے مطابق شدت پسند اقتدار کی منتقلی کے عمل کوخراب کرنا چاہتے ہیں۔ تیس جون کو عراق میں اقتدار عبوری انتظامیہ کو منتقل ہو جانا ہے۔ جمعرات کو مختلف حملوں میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ عینی شاہدوں کے مطابق مسلح افراد نے وزیر اعظم ایاد علاوی کی پارٹی، نیشنل اکارڈ موومنٹ، کے دفتر میں گھس گئے اور دھماکہ خیز مواد لگا کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ بعقوبہ میں ایک اور سیاسی جماعت، سپریم کونسل اسلامی انقلاب، کے دفتر پر حملہ کیا جس میں تین لوگ ہلاک ہوگئے۔ عربل شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک کار بم دھماکے میں کم از کم ایک عراقی سکیورٹی گارڈ ہلاک اور چالیس افراد شدید زخمی ہو گئے۔ عراق میں موجود امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق ایک فوجی بغداد میں ایک حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||