عراق میں اب بھی خطرہ ہے: عنان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ عراق میں تشدد کی جو لہر آئی ہوئی ہے اس کے پیش نظر اقوام متحدہ کے عملے کے لیے وہاں جاکر کام کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ ان کا یہ بیان اسی روز آیا ہے جب عراق کے دارالحکومت بغداد میں کام بم کے ایک دھماکے میں کم سے کم اکتالیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ پچھلے ہفتے سلامتی کونسل نے ایک امریکی قرارداد پاس کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو عراق واپس جاکر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔ لیکن مسٹر عنان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں خاصے فکرمند ہیں کیونکہ عراق میں سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر فی الحال ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ برس اگست میں اس وقت اپنا بین الاقوامی عملہ عراق سے واپس بلا لیا تھا جب اس کے ہیڈکوارٹر کے باہر کار بم کے ایک دھماکے میں اس کے ایلچی سرگیو ڈی میلو سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مسٹر عنان نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل نے مدکورہ قرارداد کے متن میں ’جب حالات اجازت دیں‘ کے الفاظ شامل کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||