عراق میں حملے، سو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں پر تشدد حملوں کی ایک لہر میں کم از کم سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔ یاد رہے کہ حملے اس وقت کیے جا رہے ہیں جب عراقیوں کو اقتدار منتقل کرنے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ عراق کی وزارتِ صحت کے مطابق سب سے شدید حملے موصل شہر میں کیے گئے ہیں جہاں مختلف کار بم دھماکوں میں کم سے کم 44 افراد ہلاک اور 216 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ رمادی، بعقوبہ اور فلوجہ میں مختلف حملوں میں 22 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ بغداد میں بھی چار عراقی نیشنل گارڈز ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملوں میں عراقیوں کے علاوہ تین امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعقوبہ میں ہونے والے حملوں کے پیچھے ابو مصاب الزرقاوی کے گروہ کا ہاتھ ہے۔
الجزیرہ ٹی وی میں بعقوبہ میں موجود مزاحمت کاروں کو الزرقاوی کے پیروکار بتایا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کوئی ایک کمانڈ سینٹر یہ حملے کروا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ الزرقاوی گروپ ان میں سے ایک ہو۔ فلوجہ سے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ وہاں مزاحمت کاروں اور امریکی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز نے مزاحمتیوں کے ٹھکانوں پر 225 کلوگرام وزنی بم پھینکے ہیں۔ موصل میں ہونے والے زیادہ تر حملے سیکیورٹی فورسز اور پولیس اسٹیشن پر کیے گئے ہیں۔ جن قصبوں میں مزاحمت کاروں نے حملے کیے ہیں وہ سنّی مثلث کا علاقہ کہلاتا ہے کیونکہ وہاں اکثریتی آبادی سنّیوں پر مشتمل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||