’شامی فوج لبنان سے نکل جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے دورے پر گئے ہوئے شامی صدر بشارالاسد پر واضح کیا ہے کہ اگرانہوں نے لبنان سے اپنی افواج کی واپسی کے فوری اقدامات نہ کیے تو سعودی عرب کے ساتھ شام کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ خبروں کے مطابق سعودی فرماں روا نے شامی صدر کے ساتھ سخت رویہ اپنایا ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے اس ماہ کے آخر میں لبنان سے اپنی افواج کے محض جزوی انخلاء پر غور کا وعدہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے واضح کردیا ہے کہ شام کو لبنان سے اپنی افواج فی الفور واپس بلا لینی چاہیے بصورت دیگر دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس کے جواب میں شامی صدر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس ماہ کی تئیس تاریخ کو ہونے والے عرب سربراہ اجلاس تک شامی فوج کے محض جزوی انخلاء پر غور کا وعدہ کیا ہے۔ اطلاعات کےمطابق سعودی رہنماؤں نےشام کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس میں لبنان سے شامی فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے تاکہ انخلاء کے لیے ایک طرح سے عرب مطالبے کا جواز بن سکے۔ شام پر لبنان سے اپنی افواج نکالنے کے لیے صرف امریکہ اور مغربی ملکوں کا ہی نہیں بلکہ علاقے کے اہم ملکوں مثلاً سعودی عرب اور مصر کا بھی زبردست دباؤ ہے۔ قاہرہ میں عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپنے اجلاس میں شام سے مطالبہ کیا کہ وہ طائف میں ہونے والے اۙس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے جس کی بدولت لبنان کی خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ اسی معاہدے میں شام سےبھی کہا گیا تھا کہ وہ اپنی افواج کو واپس بلائے۔ عرب سفارتکاروں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شام لبنان میں اپنے تین ہزار فوجی اور خطرات سے پیشگی آگاہی کے کچھ مراکز قائم رکھنا چاہتا ہے لیکن سعودی عرب اور مصردونوں ہی کے خیال میں یہ کوئی قابل عمل بات نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||