شامی ایجنٹوں کی بیروت سے روانگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان سے فوجی واپسی کے اعلان کے بعد شامی انٹیلیجنس ایجنٹوں کی بیروت سی روانگی شروع ہو چکی ہے۔ لبنان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کو مختلف علاقوں میں فرنیچر اور آلات گاڑیوں پر لادتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو لبنان میں مختلف مقامات پر لگی ہوئی شامی صدر بشار الاسد اور ان کے مرحوم والد حافظ الاسد کو تصویر بھیں اتارتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان رہنماوں کی تصاویر عمارتوں سے اتاری جا رہی تھیں تو لبنانی پولیس سٹکوں اور گلیوں کی حفاظت کر رہی تھی۔ لبنان میں شام کے 14 ہزار فوجی اور ایجنٹ بتائے جاتے ہیں اور اقوام متحدہ نے شام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لبنان سے اپنے تمام فوجی اور خفیہ اہلکاروں کو فوری طور پر واپس بلائے۔ مشرقِ وسطی میں اقوام متحدہ کے نمائندے اس بعد اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ شام نے لبنان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے بارے میں نظام الاوقات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹریج رود لارسن نے یہ اعلان شام کے شمال میں شام کے صدر بشار الاسد سے ایک ملاقات کے بعد کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ شامی صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خفیہ اہلکاروں کو بھی واپس بلا لیں گے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد سے یورپ کے علاوہ عرب ملکوں کی طرف سے بھی شام پر لبنان سے اپنی فوجیں نکالنے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔
لبنان کے حزب اختلاف کی جماعتوں نے رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار شام کو ٹھہرایا تھا جب کے شام اس الزام کی شدت سے تردید کر رہا ہے۔ دمشق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ صدر بشارالاسد نے بظاہر لبنان سے شام کی فوجوں کے انخلاء کی تمام شرائط پوری کردی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||