حزب اختلاف کا تاریخی مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اختلاف کی اپیل پر پیر کوشام کے حق ایک مظاہرے میں دس لاکھ افراد نے شرکت کی ہے۔ سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے ایک ماہ بعد ہونے والےاس مظاہرے نے شام کے حق میں ہونے والی ریلیوں کا ریکارڈ توڑ دیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لبنان کی تاریخ میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔ بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کم گھٹاس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے ہجوم نے شہر کے مرکزی علاقے کو لبنان کے قومی پرچم کے لال ، ہرے اور سفید رنگوں کے سیلاب میں تبدیل کر دیا تھا ۔ یہ لوگ لبنان میں شام کی افواج کی موجودگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ دمشق نے اقوامِ متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے 14000 فوجیوں اور خفیہ ایجنٹوں کو مقررہ مدت میں واپس بلا لے گا۔ بیروت کے افسران کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں تقریباً آٹھ لاکھ لوگوں نے شرکت کی جس کی وجہ سے اس ریلی کو بیروت کی تاریخ میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی ریلی کہا جا سکتا ہے۔ پورے لبنان سے لاکھوں افراد اس چوراہے پر جمع ہوئے جس کے نزدیک مسٹر حریری ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل ہونے والی شام مخالف ریلیوں کے برعکس اس مرتبہ مسلمان بھی اپنے رہنما کے قتل کے خلاف عیسائیوں کے ہمراہ قدم سے قدم ملا کر سڑکوں پر نکل آئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بسوں اور کاروں میں بھر کر ملک کے مختلف حصوں سے بیروت پہنچے۔ لیکن مسٹر رفیق حریری کی بہن نے کہا ہے ’ہم اس وقت تک شام کے ساتھ ہیں جب تک ہمارا ملک آزاد نہیں ہو جاتا اور اسرائیل کے قبضہ سےگولان کی پہاڑیاں ہمیں واپس نہیں مل جاتیں‘ ۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ یہ مظاہرے کہیں تشدد کی شکل اختیار نہ کر لیں اس لیے حکام آج کی ریلی کے بعد مظاہروں پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||